آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ضمیر کے قیدی کا ذکر مقصود ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے ریاست کے عام شہریوں کے بنیادی حقوق کے حصول کی جدوجہد میں پابندِ سلاسل ہے۔ محترم اعجاز چوہدری صاحب سے میرا قریبی تعلق 1981ء سے قائم و دائم ہے۔ اس سال میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں شعبہ سول انجینئرنگ کی ڈگری کے حصول کے لیے داخل ہوا تھا اور اعجاز بھائی ان دنوں یہی ڈگری لے کر یونیورسٹی سے رخصت ہونے والے تھے۔ سول انجینئرنگ کی تعلیم سے زیادہ، اسلامی جمعیت طلبہ ہم دونوں میں اہم قدرِ مشترک تھی اور طلبہ کے حقوق کے لیے چلائی جانے والی مختلف تحریکوں میں ان کا ساتھ رہا۔ مجھے ان کی بہادری اور بے خوفی نے ہمیشہ بہت متاثر کیا۔ چند سال کے ساتھ کے بعد میں کمپیوٹر کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ منتقل ہو گیا لیکن اس کے باوجود وقتاً فوقتاً اعجاز بھائی کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔
میرے وہی اعجاز چوہدری بھائی، آج کل لاہور میں واقع کوٹ لکھپت جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے کرتے جسمانی طور پر کمزور اور بیمار ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی مقتدرہ کو ضمیر کے چند قیدیوں سے بہت بڑا خطرہ محسوس ہوتا ہے اور یہ خطرہ شاید اتنا بڑا سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان کا ایٹم بم بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ضمیر کے قیدیوں کا بظاہر کوئی سنگین جرم تو ہوتا نہیں، وہ صرف نظریاتی اختلاف رکھنے کی وجہ سے زیرِ عتاب آجاتے ہیں۔ عام شہریوں کے بنیادی حقوق کی سلب کاری، اعجاز بھائی اور ان کے ساتھیوں کو کسی صورت پسند نہیں تھی۔ ان کے اس نظریاتی مؤقف کی سزا اتنی سخت اور طویل ہو جائے گی، مجھے اس کی بالکل توقع نہیں تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے بھی بہت سے رہنما ضمیر کے قیدی رہ چکے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر، مقتدرہ کے ساتھ پسِ پردہ معاہدے کر کے مفاہمت کر لیتے تھے۔ ہمارے اعجاز بھائی، اور ان کے ساتھی مثلاً محمود الرشید صاحب اور ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ، یقیناً بہادری اور بے خوفی سے مقتدرہ کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں لیکن ضعیفی کی عمر میں اب ان کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ مزید سختیاں جھیلیں۔ تاہم ان کی استقامت دیکھ کر لگتا یہ ہے کہ وہ عمران پرتابگڑھی کے ان اشعار کے ہمنوا ہیں۔
تھوڑی مشکل سہی وقت قاتل سہی
ٹوٹی تلوار بے چین ہی دل سہی
مسئلے ہیں تو کیا حوصلہ بھی تو ہے
خوف کس بات کا ہے، خدا بھی تو ہے
پاکستان کی سیاست میں چونکہ مسلح افواج کا ہمیشہ کلیدی کردار رہا ہے اس لیے پرامن اور نہتے عوام کے لیے مقتدرہ کی طاقت کا مقابلہ کرنا انتہائی کٹھن عمل ہے۔ اعجاز بھائی کی سیاسی جماعت بھی، اس سیاسی فاشزم کا مقابلہ کرتے کرتے تنظیمی طور پر کافی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ، بین الاقوامی سطح پر عالمی طاقتوں کا طوطی بول رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں پورا مغرب، پاکستان کے موجودہ ریاستی اور سیاسی ماڈل کی حمایت کر رہا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے، پاکستانی معیشت کو اچھا خاصا عارضی سہارا دیا ہوا ہے۔ دوسری طرف موروثی سیاست کرنے والے، نواز شریف اور زرداری جیسے خاندان بھی آج کل اپنے سیاسی عروج پر نازاں ہیں۔ عمران خان کا سیاسی و نظریاتی جرم مقتدرہ کی نظر میں اتنا بڑا ہے کہ اس کے لیے اور اس کے ساتھیوں کے لیے معافی کی کوئی گنجائش پیدا ہی نہیں کی جا رہی۔ وہ خود بھی اپنے ضمیر کی قید کا اتنا خوگر ہو چکا ہے کہ وہ بڑی سے بڑی قربانی سے بھی گریزاں نہیں۔ اہلیہ جیل میں ہیں، بہنیں پریشان حال عدالتوں اور سڑکوں پر سرگرداں ہیں، ملاقاتیں بند ہیں، بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے، مقامی ابلاغ عامہ میں اس کا نام تک نہیں لیا جا سکتا اور قیدِ تنہائی کے باعث بینائی کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے، لیکن ان سب مظالم کے باوجود وہ صبر و شکر کے ساتھ اپنے ضمیر کا ساتھ دیے چلا جا رہا ہے۔ اعجاز بھائی بھی شاید خان صاحب کی اسی ثابت قدمی سے اتنے متاثر ہیں کہ اس کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس صورتحال پر ایک مرتبہ پھر عمران پرتابگڑھی کے یہ اشعار صادق آتے ہیں۔
ظلم کا دور دیکھیں گے ٹلتے ہوئے
دیکھنا سارے منظر بدلتے ہوئے
تم ہو مایوس کیوں ہم نے فرعون کے
گھر میں دیکھا ہے موسیٰ کو پلتے ہوئے
ظلم کا ایک دن خاتمہ بھی تو ہے
خوف کس بات کا ہے، خدا بھی تو ہے
بین الاقوامی سطح پر اقوامِ متحدہ نے ضمیر کے قیدیوں کے حقوق کے لیے ایک جامع چارٹر وضع کیا تھا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ نیلسن منڈیلا کے نام سے منسوب ان قواعد پر کوئی عملدرآمد نہیں کرتا۔ اگر اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں ہر قسم کے قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کے واضح احکامات موجود ہیں۔ خلافتِ راشدہ کے دوران، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قیدیوں کو اپنے کھانے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے اور انہیں آرام دہ جگہ فراہم کرتے تھے۔ دیگر اسلامی اصولوں میں قیدیوں پر جسمانی اذیت کی سخت ممانعت، انسانی عزتِ نفس کا احترام اور ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام شامل ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستان عالمِ اسلام اور پوری دنیا میں پہل کر کے ان اعلیٰ اصولوں پر عمل شروع کر دیتا تاکہ ضمیر کے قیدیوں کے لیے بھی قانون کے دائرے میں کچھ آسانیاں پیدا ہو جاتیں۔ اس کٹھن وقت میں عمران پرتابگڑھی کے یہ الفاظ دلوں میں کچھ امید تو دلاتے رہتے ہیں۔
دیکھنا یہ نظارہ بدل جائے گا
کیا ہمارا تمہارا بدل جائے گا
آسماں ہوگا سر پہ نیا ہر طرف
دیکھنا ہر ستارہ بدل جائے گا
مرض ہے گر کوئی تو دوا بھی تو ہے
خوف کس بات کا ہے، خدا بھی تو ہے













