موسم گرما اور بچوں کی چھٹیاں

0
2
رعنا کوثر
رعنا کوثر

موسم گرما اور
بچوں کی چھٹیاں

امریکہ میں خاص طور سے نیویارک میں گرمیوں کا موسم بہت مختصر ہوتا ہے۔ صرف دو ماہ کی گرمی اور سورج کی تمازت ہر شخص کے دل میں جینے کا ایک بھرپور جذبہ اور نئی امنگ بھر دیتی ہے۔ موسم کی اس تبدیلی کے ساتھ ہی لوگوں میں گھومنے پھرنے، دھوپ سینکنے اور اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ تفریح فراہم کرنے کا شوق عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ اس جوش و خروش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بچے ان دو ماہ کی چھٹیوں میں اسکولوں سے فارغ ہو کر گھروں پر ہوتے ہیں۔ یہاں تک تو سب کچھ بہت اچھا اور خوشگوار لگتا ہے کیونکہ نیویارک جیسے ترقی یافتہ شہر میں بچوں کے لیے ہر طرح کی تفریحی اور تعلیمی سہولیات موجود ہیں۔ شہر میں بڑے بڑے سرسبز پارک ہیں اور وہاں پانی کی بھی افراط ہے۔ ان پارکوں میں خاص طور پر فوارے اور واٹر پلے ایریاز بنائے گئے ہیں جہاں بچے گرمی کے توڑ کے لیے خوب نہاتے اور کھیلتے کودتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی لائبریریوں میں بھی مختلف تعلیمی اور تفریحی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جہاں بچے اپنی پسند کی کتابیں پڑھ سکتے ہیں اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں۔
مگر اس خوبصورت تصویر کا دوسرا رخ وہ پریشانی ہے جو ملازمت پیشہ والدین کے لیے ان چھٹیوں کے دوران ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آتی ہے۔ سب سے زیادہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ والدین کیا کریں جو صبح سے شام تک ملازمتوں پر مجبور ہیں۔ جب بچے پورے دن کے لیے گھر پر ہوں اور والدین اپنے کاموں پر ہوں تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان بچوں کی دیکھ بھال کا انتظام کیسے کیا جائے کیونکہ امریکی قوانین کے مطابق کم عمر بچوں کو گھر میں اکیلا چھوڑنا ناممکن اور غیر قانونی ہے۔ ایسے کٹھن وقت میں اگر کسی کے خاندان کے لوگ شہر میں مقیم ہوں تو بچوں کو ان کے پاس چھوڑا جاتا ہے۔ بہن بھائی اور بزرگ والدین ایسے موقعوں پر بہت کام آتے ہیں اور ان کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی۔ تاہم جن لوگوں کے رشتہ دار وہاں موجود نہیں ہوتے انہیں مجبورا پڑوسیوں یا قریبی دوستوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
اگرچہ اسکولوں اور دیگر نجی اداروں کی جانب سے گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے مختلف سمر کیمپس اور معلوماتی پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں جہاں والدین اپنے بچوں کا داخلہ کروا سکتے ہیں لیکن ان کی فیسیں اس قدر زیادہ ہوتی ہیں کہ ایک متوسط طبقے کے خاندان کے لیے ان کا بوجھ اٹھانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان مہنگے پروگراموں اور کیمپنگ کی سہولیات سے فائدہ نہ اٹھا پانے کی وجہ سے عام طور پر والدین کو اپنے بچوں کو عزیز و اقارب کے رحم و کرم پر چھوڑنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں ملازمت پر موجود والدین سارا دن ذہنی دباؤ اور فکر کا شکار رہتے ہیں کہ ان کے پیچھے بچے کس حال میں ہوں گے اور وہ انہیں کب اور کہاں گھمانے لے کر جائیں گے۔
موجودہ دور میں مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ بچوں کو باہر لے جا کر صرف ایک پیزا کھلانے پر بھی تیس سے چالیس ڈالر خرچ ہو جاتے ہیں جو کہ روزانہ کی بنیاد پر ممکن نہیں رہتا۔ ان تمام معاشی اور سماجی مشکلات کے باوجود والدین بچوں کی خوشی کی خاطر اپنی سالانہ چھٹیاں لیتے ہیں تاکہ انہیں کسی چڑیا گھر، میوزیم یا دیگر سیاحتی مقامات پر گھمانے لے جا سکیں۔ جہاں گرمیاں اپنے ساتھ پکنک اور گھومنے پھرنے کی خوشیاں لے کر آتی ہیں وہیں یہ چھوٹے بچوں کے والدین کے لیے ایک مسلسل امتحان بھی ثابت ہوتی ہیں۔ بچوں کو پورا دن تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رکھنا اور انہیں ٹیلی ویڑن یا کمپیوٹر اسکرین کے سامنے سارا وقت ضائع کرنے سے روکنا ایک انتہائی کٹھن کام ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ہر ذی شعور انسان کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ یہ گرمیوں کی چھٹیاں ان محنت کش والدین کے لیے رحمت ہیں یا ایک زحمت۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here