جب سے فٹ بال کا ورلڈ کپ شروع ہوا ہے، ہمارے کئی دوستوں کو یہ گلہ ہے کہ اس کی وجہ سے ان کی نجی اور ازدواجی زندگی بہت متاثر ہوئی ہے۔ وہ بیشتر اوقات ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر میچ دیکھتے رہتے ہیں اور اس دوران گھر والوں پر بالکل توجہ نہیں دیتے۔ کھیل کے شوق میں وہ کھانے پینے کے معاملے میں بھی لاپرواہ ہو چکے ہیں اور جو کچھ بھی ملے اسے کھانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ جب ان کی بیویاں ان سے کچھ پوچھتی ہیں تو ان کا دھیان صرف میچوں پر ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے پریشان ہو کر بعض افراد نے طبی ماہرین سے مشورہ کیا، جنہوں نے انہیں تجویز دی کہ وہ میچ دیکھنے کے دوران اپنے دھیان کو بانٹنے کی کوشش کریں اور ذہنی تناؤ کو دور رکھیں۔ اس مشورے پر عمل کرنے سے کچھ گھروں میں حالات بہتر ہوئے اور ازدواجی تعلقات خوشگوار ہو گئے، یہاں تک کہ بعض خاندانوں میں نئی خوشیاں بھی آئیں، جس پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ جو کام طویل عرصے سے ممکن نہ تھا وہ اس کھیل کے سیزن کے دوران ممکن ہو گیا۔
اسی دوران فٹ بال فیڈریشن کے معاملات اور سیاسی شخصیات کی مداخلت کی افواہیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ مبینہ طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فٹ بال فیڈریشن کے صدر جیانی انفینٹینو پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ بعض سخت فیصلوں کو نرم کریں، خاص طور پر امریکی کھلاڑی فولارن کے حوالے سے، جنہیں بوسنیا کے کھلاڑی طارق کے خلاف سنگین فاؤل کرنے پر ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔ تاہم فیڈریشن کے صدر نے کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت کو یکسر مسترد کر دیا اور واضح کیا کہ کھیل کے قوانین سب کے لیے یکساں ہیں، جس پر امریکی انتظامیہ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب، مصر اور ارجنٹینا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں ریفری کے فیصلوں پر شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔ شائقین فٹ بال لاکھوں کی تعداد میں ریفری کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں، جس نے پورے مشرق وسطیٰ میں بحث کا بازار گرم کر دیا ہے۔ فرانسیسی ریفری کے اس اقدام کو متعصبانہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ مصر کا گول انتہائی واضح تھا جس پر ویڈیو اسسٹنٹ ریفری کی مدد کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ارجنٹینا کے کھلاڑی مسلسل ریفری پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ میچ میں کسی حد تک اثر و رسوخ استعمال کیا گیا کیونکہ مصر کے اہم کھلاڑی بشمول محمد صلاح اور زیکو اہم ترین لمحات میں میدان سے باہر چلے گئے۔ کھیل میں پانچ متبادل کھلاڑیوں کی گنجائش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیم کے دفاع کو کمزور کیا گیا، جس پر بعض حلقوں کی جانب سے مالی معاملات اور پس پردہ معاہدوں کے دعوے بھی سامنے آئے۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق مراکش کی ٹیم کو بھی فرانس کے ہاتھوں دو گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے ساتھ ہی افریقی اور عرب دنیا کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔ مراکش کی ٹیم فرانس کے مقابلے میں کمزور دکھائی دی اور ان کے کھلاڑیوں کے درمیان تال میل کا واضح فقدان نظر آیا۔ اس کے برعکس فرانسیسی ٹیم اپنے مایہ ناز کھلاڑیوں، بشمول کیلین امباپے کے ساتھ میدان میں اتری جو اس وقت دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ کیلین امباپے کی والدہ کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے۔ اس فتح کے بعد ماسوائے ارجنٹائن اب سیمی فائنل اور فائنل کی دوڑ صرف یورپی ممالک کے درمیان رہ گئی ہے ۔













