نیو یارک (پاکستان نیوز)نیو یارک سٹی نے مالی سال 2027 کے لیے 125.8 ارب ڈالر کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے تاہم میئر زہران ممدانی کی جانب سے ملین پتی افراد پر انکم ٹیکس بڑھانے کی تجویز اس بجٹ کا حصہ نہیں بن سکی۔ میئر ممدانی اور سٹی کونسل کی اسپیکر جولی مینن کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد طے پانیوالے اس معاہدے میں جائیداد پر ٹیکس بڑھانے سے گریز کیا گیا ہے اور پبلک اسکولوں، لائبریریوں اور سماجی بہبود کے منصوبوں کیلئے فنڈز کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ حالیہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق نیو یارک میں مقیم لکھ پتی افراد کی تعداد میں اگرچہ اضافہ ہوا ہے لیکن مجموعی ملکی تناسب کے لحاظ سے ریاست میں امیر ترین افراد کا حصہ 2010 میں 12.7 فیصد سے کم ہو کر 2022 میں صرف 8.7 فیصد رہ گیا ہے۔ ٹیکس میں اضافے کی مخالفت کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ سخت ٹیکس قوانین کی وجہ سے امیر ترین خاندان فلوریڈا اور ٹیکساس جیسی کم ٹیکس والی ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں جہاں انفرادی انکم ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔ دوسری جانب حکومتی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ وبا کے دوران شروع ہونے والا انخلا اب کافی حد تک سست ہو چکا ہے۔ سال 2020 میں تقریباً 3300 ملین پتی افراد نے نیو یارک چھوڑا تھا لیکن 2024 میں یہ تعداد کم ہو کر محض 1679 رہ گئی ہے۔ میئر ممدانی کا اب بھی ماننا ہے کہ شہر کے ترقیاتی منصوبوں اور پبلک سروسز کو بہتر بنانے کے لیے امیر ترین طبقے اور منافع بخش کمپنیوں سے زیادہ ٹیکس لینا ناگزیر ہے تاہم اس کے لیے انہیں گورنر کیتھی ہوچل کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔









