دمشق (پاکستان نیوز)شام نے ان تمام فوجی مقامات کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے جہاں ماضی میں امریکی افواج تعینات تھیں، دمشق کے مطابق یہ پیش رفت کردوں کی قیادت میں لڑنے والے جنگجوؤں کے قومی ڈھانچے میں کامیاب انضمام کی عکاس ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوجیوں اور آلات کا آخری قافلہ شمال مشرقی صوبے حسکہ میں واقع قصرک ایئر بیس سے روانہ ہوا، جس کے ساتھ ہی 2014 میں داعش کے خلاف شروع ہونے والی امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ شامی صدر احمد الشرع نے دمشق میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے عسکری کمانڈر مظلوم عبدی اور سیاسی ونگ کی سربراہ الہام احمد کا استقبال کیا جس میں وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی بھی موجود تھے۔ شامی وزارت خارجہ نے اڈوں کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ملک کو ایک واحد ریاستی اتھارٹی کے تحت لانے کی کوششوں کا نتیجہ ہے، بشمول وہ سرحدی علاقے جو طویل عرصے سے دمشق کے کنٹرول سے باہر تھے۔ وزارت کے مطابق یہ منتقلی امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے انجام پائی ہے جو نومبر میں وائٹ ہاؤس میں صدر احمد الشرع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد پیدا ہونے والے تعمیری تعلقات کی نشاندہی کرتی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی تصدیق کی ہے کہ تمام بڑے اڈوں کی حوالگی ایک منظم اور طے شدہ عمل کے تحت مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ عمل اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت کرد جنگجوؤں کو شامی قومی فوج میں شامل کیا جا رہا ہے اور تمام سویلین اداروں کا انتظام دمشق کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر امریکی سامان کی واپسی عراق کے بجائے اردن کے راستے عمل میں لائی گئی ہے۔











