PIAملازم کی 24 سالہ پنشن ادا کرنیکا حکم

0
6

اسلام آباد (پاکستان نیوز)سپریم کورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو اپنے ایک سابق ملازم مصطفیٰ انصاری کی 24 سالہ بقایا پنشن فوری طور پر ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا تو ادارے کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل 2002 میں ایک اسکیم کے تحت ریٹائر ہوئے تھے اور سندھ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود انہیں واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی، جبکہ دیگر ملازمین باقاعدگی سے پنشن وصول کر رہے ہیں۔ عدالت نے پی آئی اے کے قانون افسر سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت کسی ریٹائرڈ ملازم کی پنشن روکی جا سکتی ہے، جس پر افسر نے ادارے سے ہدایات لینے کے لیے مہلت مانگی۔ عدالت نے سماعت 23 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایک علیحدہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ محض ذاتی مصروفیات کی بنیاد پر مقدمات میں التوا نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کے مبہم عذر پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور عدالتی ذمہ داریوں سے غفلت کا ثبوت ہیں۔ سات صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ التوا کی درخواست صرف قانونی طریقہ کار کے مطابق ہی دی جا سکتی ہے تاکہ عدالتی کارروائی میں بلاوجہ تعطل پیدا نہ ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانونی فریم ورک کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مقدمات کی سماعت کسی انفرادی وکیل کی سہولت یا شیڈول کے بجائے قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھے اور سائلین کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here