امریکہ میں مسلمانوںکی آبادی اور سیاسی مقبولیت میںریکارڈ اضافہ

0
4

نیویارک (پاکستان نیوز)امریکہ میں اسلام اس وقت تیسرے بڑے مذہب کے طور پر مستحکم ہو چکا ہے جہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق 6 سے 8 ملین مسلمان آباد ہیں۔ حالیہ برسوں میں امریکی مسلم کمیونٹی کی سماجی اور مذہبی جڑوں میں نمایاں وسعت دیکھی گئی ہے جس کا واضح ثبوت مساجد کی تعداد میں ہونے والا زبردست اضافہ ہے۔ سال 2020 کے ایک جامع سروے کے مطابق ملک بھر میں مساجد کی کل تعداد 2769 تک پہنچ چکی ہے جو کہ سال 2000 کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے نیویارک 340 سے زائد مساجد کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ کیلیفورنیا میں 308 اور ٹیکساس میں 225 سے زائد مساجد قائم ہیں۔ مذہبی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں بھی غیر معمولی پیش رفت جاری ہے اور اس وقت ملک میں 300 سے زائد باقاعدہ اسلامی سکول کام کر رہے ہیں جو نئی نسل کی مذہبی و عصری تربیت میں مصروف ہیں۔ ایک اہم سماجی پہلو یہ بھی ہے کہ ہر سال تقریباً 30000 امریکی شہری اپنی مرضی سے دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں جو اس مذہب کے آفاقی پیغام کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ نیویارک، لاس اینجلس، شکاگو، ہیوسٹن، ڈیٹرائٹ اور واشنگٹن جیسے بڑے شہر مسلم آبادی کے اہم ترین مراکز بن چکے ہیں جہاں یہ کمیونٹی معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہے۔
اس آبادیاتی اور سماجی اضافے کے ساتھ ساتھ امریکی سیاست کے ایوانوں میں بھی مسلمانوں کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مقامی حکومتوں کی سطح پر عبداللہ حمود مشی گن کی اہم ترین کاؤنٹی میں میئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ عامر عمر، مو بیدون اور ایڈم الحربی جیسے رہنما بھی مختلف شہروں میں قیادت کر رہے ہیں۔ نیویارک جیسے عالمی شہر میں زہران ممدانی کی سیاسی کامیابی اور میئر کے عہدے تک رسائی کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ وفاقی سطح پر امریکی ایوانِ نمائندگان میں الہان عمر، رشیدہ تلیب اور اینڈرے کارسن جیسے تجربہ کار سیاستدان مسلم کمیونٹی کے حقوق اور اہم عالمی مسائل پر بھرپور آواز اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح ورجینیا میں غزالہ ہاشمی کی بطور لیفٹیننٹ گورنر کامیابی اور منیا پولس میں جمال عثمان جیسے کونسل ارکان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی مسلمان اب پالیسی سازی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکی مسلم کمیونٹی کا یہ متنوع ڈھانچہ جس میں عرب، ایشیائی، افریقی اور نو مسلم امریکی شامل ہیں، ملک کی مجموعی جمہوریت اور ثقافت کو مزید تقویت بخش رہا ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی نمائندگی نہ صرف مسلمانوں کے سماجی تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے بلکہ امریکی معاشرے میں ان کے مثبت تشخص کو بھی اجاگر کر رہی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here