نیویارک (پاکستان نیوز)گورنر کیتھی ہوچل نے ریاست میں نفرت انگیز جرائم اور اسلام فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر سکیورٹی اقدامات کے لیے 70 ملین ڈالر کے ریکارڈ فنڈز کی دستیابی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ حال ہی میں مسلمانوں اور دیگر کمیونٹیز کیخلاف حملوں میں ہونیوالے ہوش ربا اضافے کے بعد سامنے آیا ہے تاکہ عبادت گاہوں، اسکولوں اور سماجی مراکز کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران نفرت انگیز جرائم کی شرح میں 140 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے مقامی مسلم آبادی میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ اس نئے منصوبے کے تحت غیر منافع بخش تنظیمیں اور مذہبی ادارے اپنی عمارتوں کی حفاظت کے لیے 250,000 ڈالر تک کی گرانٹ حاصل کر سکیں گے۔ ان فنڈز کو جدید ترین سکیورٹی کیمروں کی تنصیب، الارم سسٹم، حفاظتی باڑ، مضبوط دروازوں اور کھڑکیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ مزید برآں مساجد اور امام بارگاہوں کے گرد 25 فٹ کا بفر زون قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ عبادت گزاروں کو ہراساں کرنے سے روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیویارک میں نفرت کی بنیاد پر کیے جانے والے تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور اس بڑی سرمایہ کاری کا مقصد ہر شہری کو بلا خوف و خطر اپنی مذہبی عبادات اور روزمرہ سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل بنانا ہے۔ حکومت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع فوری طور پر مخصوص ہیلپ لائن پر دیں۔












