واشنگٹن (پاکستان نیوز)اسلام آباد ان دنوں عالمی سفارت کاری کا مرکز بن چکا ہے جہاں آئندہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں امریکی ٹیم کی قیادت اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے۔ اس حوالے سے سب سے اہم خبر یہ ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس اس وفد کا حصہ نہیں ہوں گے، جس کی وجہ امریکی سیکورٹی پروٹوکولز بتائے جا رہے ہیں۔ ان قوانین کے تحت صدر اور نائب صدر بیک وقت کسی غیر ملکی سرزمین پر قیام نہیں کر سکتے۔ جے ڈی وینس کی عدم موجودگی اس بات کا قوی امکان ظاہر کر رہی ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت یا معاہدہ طے پاتا ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کو ایک منصفانہ ڈیل کی پیشکش کرتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا ہے کہ اگر یہ پیشکش قبول نہ کی گئی تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں حالیہ فائرنگ اور فرانسیسی و برطانوی جہازوں کو نشانہ بنانا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے بقول ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان بے معنی ہے کیونکہ امریکی ناکہ بندی پہلے ہی اسے بند کر چکی ہے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں ان مذاکرات کے نتائج خطے کی سیاست کا رخ متعین کریں گے۔









