جدید آلات سے کریڈٹ کارڈ فراڈ میں شدید اضافہ؛ کروڑوں ڈالرز چوری ہو گئے

0
5

نیویارک (پاکستان نیوز)وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق سال 2026 میں ڈجیٹل چوری ملک میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا جرم بن چکا ہے۔ اس نئے طریقے میں مجرم بھیڑ بھاڑ والے مقامات جیسے خریداری مراکز اور ہوائی اڈوں پر عام شہریوں کے قریب کھڑے ہو کر خفیہ برقی سکینرز کے ذریعے ان کے بٹوے میں موجود بینک کارڈز اور ذاتی شناختی معلومات چند سیکنڈ میں اڑا لیتے ہیں۔ چوروں کو اس کارروائی کے لیے شہریوں کو چھونے یا ان کا بٹوا ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ روزانہ 11,000 سے زائد امریکی اس برقی چوری کا نشانہ بن رہے ہیں اور سال 2021 سے اب تک ان نقصانات میں 340 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایک اوسط متاثرہ شخص کو تقریباً 4,200 ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور ان میں سے صرف 23 فیصد لوگ اپنی رقم واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ساٹھ سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کو اس جرم کا نشانہ بنائے جانے کا امکان تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں ایک امریکی ریاست میں پیش آنے والے واقعے میں 71 سالہ خاتون کے کھاتے سے خریداری کے دوران محض نو منٹ میں 52,000 ڈالرز اڑا لیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی چمڑے کے بٹوے یا پرانے حفاظتی غلاف ان جدید ترین سکینرز کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے خلائی ادارے ناسا کے ایک سابق انجینئر نے کارڈین نامی ایک خاص برقی کارڈ تیار کیا ہے جو مقناطیسی رکاوٹ پیدا کر کے چوروں کے آلات کو ناکارہ بناتا ہے اور مالیاتی معلومات کو مکمل طور پر محفوظ رکھتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here