ہم اپنے گزشتہ کالموں میں متعدد بار یہی گذارش کرتے رہے ہیں کہ حکمران دوسروں کے پھڈے میں ٹانگ اُڑانے اور اپنا ڈپلومیٹک امیج بنانے کیلئے کاسہ لیسی کرنے سے جان چھڑائیں اور اپنے گھر کے تحفظ کی فکر کو اولیت دی جائے لیکن ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کے مشہور شعر ”قوم اگر طلب کرے تم سے علاج تیرگی، صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو” کے تناظر میں صاحبان اقتدار خواہ سیاسی ہوں، ریاستی ہوں یا حکومتی اپنے مفاداتی ایجنڈے کی بناء پر ہی عمل پیرا ہیں۔ وطن عزیز آگ اور خون کی لپیٹ میں ہے اور ارباب اختیار دوسروں کی آگ بجھانے کی تگ و دو کو اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ کراچی سے پختونخواہ بلوچستان حد یہ کہ آزاد کشمیر تک دشمن قوتوں اور ان کی پراکسیز نے دہشتگردی اور قتال کا طوفان برپا کیا ہے مگر حکومتی ارباب اپنے سیاسی و خودغرضانہ مقاصد میں اُلجھے ہوئے ہیں انہیں فکر نہیں کہ وطن عزیز کے تحفظ کیلئے کتنے بیٹوں کی شہادتیں ہو چکی ہیں اور کب تک ہوتی رہیں گی۔ انہیں یہ احساس کہ وطن کی بقاء و سالمیت دائو پر لگی ہوئی ہے بھی شاید بالکل نہیں۔ ان کیلئے اپنے حلوے مانڈے، عیش و عشرت زیادہ عزیز ہیں حتیٰ کہ اس امر کا بھی کوئی احتمال نہیں کہ انہیں منتکب کرنے اور برسر اقتدار لانے والے عوام کس کسمپرسی سے دوچار ہیں۔
کہنے کو تو یہ کوئی نئی بات نہیں کہ سات عشروں سے بھی زیادہ کی طویل داستان ہے لیکن وطن عزیز جن حالات کا ان دنوں سیاسی و دفاعی حوالوں سے دوچار ہے، گزشتہ ہفتہ ان کی خونچکاں اور بدترین تصویر کے سواء اور کچھ نہیں۔ ازلی دشمن بھارت اور پاکستان کے احسان فراموش افغان رجیم کی دشمنانہ سرگرمیاں اسرائیل و پراکسیز اور ملک دشمن ایجنٹوں کے توسط سے جاری رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے کور کمانڈرز کانفرنس کے سخت فیصلوں اور فتنہ الخوارج و فتنہ الہند کیخلاف اقدامات کے نتیجے بلکہ رد عمل میں بلوچستان جس قیامت سے گزرا ہے وہ محض دہشتگردی ہی نہیں ہماری سلامتی کیخلاف واضح جنگ کا اقدام ہی قرار پاتا ہے۔ قارئین اس واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ ہو چکے ہیں، شمالی افغانستان میں اپنی تباہی و بربادی کے نتیجے میں خوارج جنوب کی سرحد پر جمع ہوئے اور بی ایل اے و داعش کے گٹھ جوڑ سے حملہ آور ہوئے جس کے نتیجے میں ہمارے پولیس، لیویز، رینجرز اور عسکری بیٹے شہید ہوئے اس کا مداوا سینکڑوں دشمنوں کو جہنم رسید کرنے سے پورا نہیں ہو سکتا، نہ صدر، وزیراعظم و سیاسی و حکومتی مقتدرین کے اظہار تعزیت و خراج عقیدت سے ہوگا۔ دشمنوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے معرکہ آپریشن شعبان شروع ہے، دشمنوں کو سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ٹھکانے لگا دیا گیا تو کیا ہندوستان، افغان رجیم اور اسرائیلی و پراکسیز کا شیطانی کردار انجام کو پہنچے گا؟ اے پی ایس کی دہشتگردی سے لے کر اب تک کتنے ہی منصوبے بن چکے، دشمن کو مسلسل زک پہنچائی، گزشتہ برس بدترین شکست دی گئی، دنیا بھر میں اس کی رسوائی ہوئی لیکن کیا وہ اپنی کمینگی سے باز آیا ہے، دہشتگردی اور پراکسی وار کا بھوت مسلسل ناچ رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی شورش اور پیپلز ایکشن کمیٹی کے زر خرید لیڈروں میں ہندتوا کا بویا ہوا امیج آزاد کشمیر کے آئین میں پاکستان سے الحاق کی کلاز کے خاتمے، 12 نشستوں اور فسادات کی شکل میں سامنے آگیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان بدترین حالات میں جب کراچی سے کشمیر تک دشمن سے نبرد آزمائی درپیش ہے، وطن عزیز میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور نا انصافی و کساد بازاری نے عوام کا جینا حرام کیا ہے، حکمران ہوں، سیاسی اشرافیہ یا منتخب نمائندگان ملک اور عوام کی بہتری کے برعکس اپنی بہبود کے لالچ میں جکڑے ہوئے ہیں کے پی اسمبلی اور سینٹ میں ارکان و وزراء سمیت بلیو پاسپورٹ، مخصوص نمبر پلیٹ، تنخواہوں میں اضافے، ٹول فری اور سرکاری قیام گاہوں میں مفت قیام کے ڈرامے آپ تک یقیناً پہنچ چکے ہونگے، حکومتی و شریک لیڈر شپ حتیٰ کہ وفاق و صوبائی حکومتوں میں تبدیلی کی کہانیوں کا بھی شور برپا ہے اور اینکر و یو ٹیوبر اپنی چاندی کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان صرف اشرافیہ کیلئے بنا ہے اور عوام کا وجود ان کے اللوں تللوں کیلئے ہے۔ گستاخی معاف، امریکہ اور ایران کے درمیان میمورنڈم بعنوان اسلام آباد معاہدہ بھی نزاع کی کیفیت میں آچکا ہے۔ ایران و امریکہ میں دوبارہ نہ صرف جنگ کے شعلے بھرک اُٹھے ہیں بلکہ ایران کی جانب سے خصوصاً پاسداران کے طفیل دائرہ یو اے ای، قطر و بحرین بلکہ ہماری ان سطور لکھتے وقت خبر ہے کہ یمن و سعودی عرب تک جا پہنچا ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ فیلڈ مارشل اس حوالے سے ترکیہ پہنچے ہیں، محسن نقوی پہلے ہی امریکہ یاترا میں ہیں ہمارا مطمع نظر تو ہمیشہ یہی رہا ہے کہ 71ء کی جنگ ہو، نائن الیون کے بعد کے معاملات ہوں انکل سام کبھی پُرخلوص دوست نہیں رہے ہیں اپنا مقصد پورا کیا ہے اور کام پورا ہونے پر ٹشو پیپر کی طرح ٹریش کر دیا ہے۔ آخر کب تک ہم دھوکہ کھاتے رہیں گے۔ قصہ درد سنایا ہے کہ بھرپور ہیں ہم۔
٭٭٭٭٭











