نیویارک (پاکستان نیوز)امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے سال 2025 کے ترمیمی قانون کے تحت امیگریشن فیسوں اور نئی شرائط کے نفاذ کے لیے ایک عبوری حتمی ضابطہ جاری کر دیا ہے۔ اس نئے قانون کا بنیادی مقصد امیگریشن کے نفاذ کے لیے فنڈز میں اضافہ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی شہری امیگریشن خدمات کے اخراجات خود برداشت کریں۔ 22 جولائی 2025ء کو شائع ہونیوالے نوٹس کے مطابق اب پناہ کی درخواست فارم آئی 589 جمع کروانے کی فیس کے ساتھ ساتھ ایک سالانہ پناہ فیس بھی ادا کرنا ہوگی جو اس وقت تک لاگو رہے گی جب تک درخواست زیر التوا ہے۔ نئے قواعد کے تحت اگر کوئی درخواست گزار نوٹس ملنے کے 30 دنوں کے اندر سالانہ فیس ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو حکام اس کی پناہ کی درخواست مسترد کر دیں گے۔ اگر متعلقہ فرد کے پاس امریکہ میں رہنے کا کوئی دوسرا قانونی درجہ موجود نہ ہوا تو اسے ملک بدر کرنے کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا۔ درخواست مسترد ہونے کی صورت میں روزگار کی اجازت سے متعلق تمام زیر التوا درخواستیں بھی خارج کر دی جائیں گی اور جن افراد کے پاس پہلے سے کام کرنے کا اجازت نامہ موجود ہے وہ فوری طور پر اپنی ملازمت کا حق کھو دیں گے۔ اس ضابطے میں مزید تبدیلیاں بھی شامل کی گئی ہیں جن میں عارضی محفوظ حیثیت یعنی ٹی پی ایس کے حامل افراد کے لیے کام کی اجازت کی مدت کو محدود کر کے ایک سال یا اس کی بقیہ مدت کے برابر کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں آمد و روانگی کی دستاویز کی تبدیلی کے لیے فارم آئی 102 پر کم از کم 24 ڈالر کی اضافی فیس عائد کی گئی ہے۔ ان تمام قوانین کا اطلاق 29 مئی 2026 سے ہوگا اور عوام کو 29 جون 2026 تک اپنی آراء جمع کروانے کی مہلت دی گئی ہے۔










