ہیوسٹن (پاکستان نیوز)ٹیکساس کی جیوری نے فرسکو ہائی اسکول کے ٹریک مقابلے کے دوران ایک طالب علم کے قتل کے مقدمے میں 19 سالہ نوجوان کارمیلو انتھونی کو قتل کا مجرم قرار دے دیا ہے جس کے بعد اب انہیں 35 سال قید تک کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ ہائی پروفائل مقدمہ گزشتہ سال 2 اپریل 2025 کو پیش آنیوالے ایک افسوسناک واقعے سے متعلق ہے جس میں کارمیلو انتھونی نے ایک دوسرے اسکول کے 17 سالہ طالب علم آسٹن مٹکاف کو سینے میں چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا تھا۔ عدالت میں کارروائی کے دوران جیوری نے صرف 3 گھنٹے کی طویل مشاورت کے بعد متفقہ طور پر ملزم کو فرسٹ ڈگری قتل کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کے دفاعی وکلاء کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ملزم نے یہ اقدام اپنے دفاع میں کیا تھا۔ سرکاری وکلاء نے عدالت میں مضبوط شواہد اور گواہان پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ اپنے دفاع کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ملزم نے جان بوجھ کر تنازع کھڑا کیا اور پھر مقتول پر اچانک چاقو سے حملہ کیا۔ اگرچہ واقعے کے وقت کارمیلو انتھونی کی عمر 17 سال تھی اور وہ قانوناً نابالغ تھے لیکن ٹیکساس کے سخت قوانین کے تحت ان پر بالغ فرد کے طور پر مقدمہ چلایا گیا۔ مقدمے کے فیصلے کے وقت عدالت میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جہاں مقتول کا جڑواں بھائی اور خاندان کے دیگر ارکان موجود تھے جبکہ مجرم قرار دیے جانے پر کارمیلو انتھونی کے والدین آبدیدہ ہو گئے۔ اس جرم کی پاداش میں مجرم کو کم از کم 5 سال سے لے کر 99 سال یا پھر پوری زندگی جیل میں گزارنے کی سزا سنائی جا سکتی ہے اور اب یہ مقدمہ اپنے آخری مرحلے یعنی سزا کے تعین کی طرف بڑھ رہا ہے۔












