تارکینِ وطن کے لیے کبھی دنیا کا سب سے پرکشش خطہ کہلانے والی مغربی دنیا اب اپنے دروازے تیزی سے بند کر رہی ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں بین الاقوامی منظر نامے پر رونما ہونے والی سیاسی اور معاشی تبدیلیوں نے ترقی یافتہ ممالک کو اپنی روایتی معتدل پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک، جو کبھی ہنرمند اور غیر ہنرمند افرادی قوت کا بنیادی مرکز تصور کیے جاتے تھے، اب نہ صرف نئے آنے والوں کے راستے میں قانونی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں بلکہ پہلے سے موجود غیر ملکیوں کے انخلاء کے لیے بھی سخت اقدامات پر عمل پیرا ہیں۔ یہ صورتحال بالخصوص جنوبی ایشیا کے ان لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک بھیانک خواب کی مانند بن چکی ہے جو اپنے ممالک کے ناگفتہ بہ حالات سے دلبرداشتہ ہو کر ایک روشن مستقبل کی تلاش میں مغرب کا رخ کرتے تھے۔اگر ہم برطانیہ کی حالیہ پالیسیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں پناہ گزینوں اور مستقل سکونت کے قوانین میں تاریخ کی سب سے بڑی اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے۔ برطانوی حکومت نے مستقل تحفظ کے پرانے اور پائیدار نظام کو یکسر ختم کر کے عارضی تحفظ کا ایک ایسا ماڈل نافذ کیا ہے جس کے تحت پناہ گزینوں کی ابتدائی مدت کو پانچ سال سے گھٹا کر صرف تیس ماہ کر دیا گیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ مستقل سکونت کے حصول کے لیے انتظار کا دورانیہ پانچ سال سے بڑھا کر بیس سال کر دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی ان لاکھوں تارکین کے لیے ایک ایسا طویل اور صبر آزما امتحان ہے جس کی تکمیل کی کوئی یقینی ضمانت نہیں۔ خاندانی ملاپ کے حقوق کا خاتمہ اور سرکاری رہائش و مالی معاونت پر کڑی شرائط عائد کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ برطانیہ اب تارکینِ وطن کے بوجھ کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نئی عدالتی اکائیاں قائم کی جا رہی ہیں تاکہ اپیلوں کے طویل سلسلے کو روک کر غیر ملکیوں کو جلد از جلد ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا سکے۔دوسری جانب کینیڈا، جو اب تک اپنی نرم مڈل کلاس امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے طلبہ کا پسندیدہ ترین ملک رہا ہے، اب اسی راستے پر چل پڑا ہے۔ کینیڈا کے صوبے مینی ٹوبا نے روزگار پر مبنی وہ مقبول ترین پروگرام مستقل طور پر بند کر دیا ہے جو بیرونی ممالک کے فارغ التحصیل طلبہ کو تعلیم مکمل کرتے ہی مستقل سکونت کا پروانہ فراہم کرتا تھا۔ نئے قوانین کے تحت اب محض ایک تعلیمی ڈگری کی بنیاد پر وہاں رہائش اختیار کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اس فیصلے نے کینیڈا میں موجود ہزاروں غیر ملکی طلبہ کو شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ تعلیمی اخراجات کی مد میں خطیر رقوم خرچ کرنے کے بعد اب ان کے سامنے اندھیرا ہے۔
معاملہ یہیں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ امریکہ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ گمبھیر دکھائی دیتی ہے۔ امریکی انتظامیہ اب نہ صرف سرحدوں پر چوکسی بڑھا رہی ہے بلکہ ملک کے اندر موجود کروڑوں غیر قانونی اور حتیٰ کہ قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کے انخلا کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسیع اختیارات دئیے جا رہے ہیں تاکہ ان افراد کو تلاش کر کے ملک سے باہر نکالا جا سکے جن کے دستاویزات میں معمولی سی بھی خامی ہو۔ مغربی دنیا کی اس اجتماعی پالیسی کو اگر ایک لفظ میں سمویا جائے تو یہ قوم پرستی اور مقامی معیشت کے تحفظ کی طرف ایک بڑی پسپائی ہے۔ وہاں کی حکومتوں پر مقامی آبادی کا دباؤ ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی، رہائش کے بحران اور بے روزگاری کا ذمہ دار غیر ملکیوں کو ٹھہراتی ہے۔مغرب کے اس بدلتے ہوئے رویے کا سب سے خوفناک اور براہِ راست اثر پاکستان اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک پر پڑنے والا ہے۔ ان ممالک کی موجودہ نوجوان نسل اس وقت ایک عجیب اور بے نام مایوسی کا شکار ہے۔ ان ممالک میں آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن ان کے پاس معاشی بقا کے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پاکستان اور بھارت کا موجودہ ڈھانچہ اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ وہ اس بڑی تعداد کو نظام میں سمونے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہے۔ صنعتیں دم توڑ رہی ہیں، سرمایہ کاری کے مواقع ختم ہو رہے ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے در در کی خاک چھاننے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس واحد راستہ یہی بچتا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح بیرونِ ملک نکل جائیں، چاہے اس کے لیے انہیں اپنے خاندان کی تمام جمع پونجی ہی کیوں نہ داؤ پر لگانی پڑی ہو۔اب جبکہ مغرب نے اپنے تمام قانونی اور سفارتی دروازے بند کرنا شروع کر دئیے ہیں، تو ان نوجوانوں کی امیدوں کے چراغ گل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال دونوں ممالک کے لیے ایک بہت بڑے داخلی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ جب لاکھوں کی تعداد میں پڑھے لکھے اور ہنرمند نوجوان روزگار سے محروم ہو کر اپنے ہی ملکوں میں محصور ہو جائیں گے، تو سماجی بے چینی، جرائم کی شرح میں اضافہ اور ذہنی امراض کی لہر کا پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان ممالک کے مقتدر حلقے اور منصوبہ ساز اس بھیانک مستقبل کا ادراک کریں۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اب مغرب ان کے معاشی اور سماجی بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اگر اب بھی مقامی ڈھانچے کو سدھارنے، نئی صنعتوں کے قیام اور نوجوانوں کو اپنے ہی ملک میں معزز روزگار فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ انسانی سیلاب خود ان ممالک کے اپنے وجود اور سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن کر ابھرے گا۔ دنیا بدل چکی ہے، اور اب جنوبی ایشیا کو بھی اپنی بقا کے لیے بیساکھیوں کے سہارے چھوڑ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھنا ہوگا۔
٭٭٭















