قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کی پشت پناہی کے ثبوت

0
8

اسلام آباد(پاکستان نیوز)سابق وفاقی زیر انتظام قبائلی علاقہ جات یعنی فاٹا، جو اب صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہو چکے ہیں، طویل عرصے سے پاکستان کی اندرونی اور سرحدی سیکیورٹی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع یہ خطہ جغرافیائی اہمیت کے باعث دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا، جہاں سے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر کالعدم تنظیمیں اپنے نیٹ ورک چلاتی رہیں۔ اس سیکیورٹی خطرے سے نمٹنے کے لیے پاک فوج نے ضرب عضب اور رد الفساد جیسے بڑے آپریشنز کیے، جن کے ذریعے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے ذخائر کو ختم کیا گیا۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے اقدام نے بھی سرحد پار سے ہونے والی گھس بیٹ کو کافی حد تک محدود کیا۔ سیکیورٹی صورتحال کو پائیدار بنانے کے لیے سال 2018 میں 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس خطے کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا۔ اس اہم پیش رفت کا مقصد نوآبادیاتی دور کے فرنٹیر کرائمز ریگولیشن یعنی ایف سی آر کا خاتمہ کر کے علاقے کو قومی دھارے میں شامل کرنا تھا، تاکہ وہاں ملکی آئین، عدالتوں اور پولیس کے نظام کو فعال کیا جا سکے۔ اس اصلاحاتی عمل کے باوجود افغانستان میں طویل مدتی تبدیلیوں کے بعد کالعدم تنظیموں کی بحالی اور سرحدی اضلاع میں حملوں کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے لیے متاثرہ علاقوں کی بازآبادکاری، بارودی سرنگوں کی پاکسازی اور اقتصادی ترقی کا سفر بدستور چیلنجز سے بھرا ہوا ہے۔ پاکستان اب روایتی عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور غیر روایتی جنگی تدابیر کے ذریعے سرحدوں اور مقامی آبادی کو محفوظ بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here