سعودیہ کا امریکہ پرجنگ جاری رکھنے کا دباؤ،خفیہ سازش بے نقاب

0
3

نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کے عملی حکمران ولی عہد محمد بن سلمان پس پردہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایران کیخلاف جاری فوجی مہم کو ختم کرنے کے بجائے اس میں مزید شدت لائیں تاکہ تہران کی حکومت کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد اس جنگ کو مشرق وسطیٰ کی سیاسی بساط پلٹنے کا ایک سنہری اور تاریخی موقع قرار دے رہے ہیں اور انہوں نے امریکی صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ محض فضائی حملوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ ایران کے توانائی کے مراکز خصوصاً خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی زمینی افواج بھی میدان میں اتاریں۔ ان رابطوں میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ ایران خطے کے استحکام کے لیے ایک دائمی خطرہ ہے جس کا واحد حل وہاں کی موجودہ انتظامیہ کی بیخ کنی ہے اور اگر امریکہ اس مرحلے پر پیچھے ہٹ گیا تو سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کو ایک بپھرے ہوئے ایران کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب کی اس جنگجوانہ حکمت عملی کے پیچھے محض سیاسی عزائم ہی نہیں بلکہ گہرے معاشی مفادات بھی کارفرما ہیں کیونکہ ایران کے جوابی حملوں نے آبنائے ہرمز کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے جس سے سعودی تیل کی برآمدات کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ولی عہد کو خدشہ ہے کہ جنگ کے ادھورے خاتمے کی صورت میں ایران اس اہم سمندری گزرگاہ کو مستقل طور پر بند کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا جو سعودی عرب کے معاشی ویڑن 2030 کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ سعودی حکومت عوامی سطح پر امن پسندی کا راگ الاپ رہی ہے اور سرکاری بیانات میں تنازع کے پرامن حل کی بات کی جاتی ہے لیکن خفیہ سفارتی مراسلات اور اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو ایک مختلف ہی کہانی سناتی ہے جس میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے اور زمینی جارحیت کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ کے اندر بھی ان مطالبات پر تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ ایک طرف تو مذاکرات کی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں اور دوسری طرف سعودی دباؤ کے زیر اثر 3000 مزید فوجی دستے خطے میں بھیجنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنے دفاعی حصار میں موجود کمیوں کو امریکی طاقت کے ذریعے پورا کرنا چاہتا ہے اور اسی لیے وہ واشنگٹن کو ایک ایسی لامتناہی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ سعودی ولی عہد کی جانب سے صدر ٹرمپ کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا حالیہ اضافہ عارضی ہے اور ایران کی کمر توڑنے کے بعد صورتحال جلد قابو میں آ جائے گی تاہم ماہرین اس دعوے کو حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ زمینی حملہ پورے خطے کو ایک ایسی دلدل میں پھنسا سکتا ہے جس سے نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here