نیویارک (پاکستان نیوز)ٹرمپ نے ایران کیخلاف شروع ہونے والی حالیہ جنگ کی تمام تر ذمہ داری اپنے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر عائد کر دی ہے جس سے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ریاست ٹینیسی میں منعقدہ ایک اہم گول میز اجلاس کے دوران ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت اور اس کا مشورہ سب سے پہلے پیٹ ہیگستھ نے دیا تھا۔ انہوں نے براہ راست اپنے وزیر دفاع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود ہی اس معاملے کی وضاحت کریں کیونکہ وہی اس جنگ کے اصل محرک تھے اور ان کا موقف تھا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس جنگ کے آغاز کی وجوہات کے حوالے سے خود ٹرمپ انتظامیہ کے اندر سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کچھ حکام کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل ایران پر تنہا حملہ کرنے والا تھا جس کے باعث امریکہ کو مداخلت کرنا پڑی جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اب اچانک ایران کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کر کے سب کو حیران کر دیا ہے حالانکہ چند گھنٹے قبل ہی انہوں نے خلیجی خطے میں ایرانی جوابی حملوں کو غیر متوقع قرار دیا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے جنگ سے قبل پیٹ ہیگستھ اور جنرل کین سمیت کئی ماہرین سے مشاورت کی تھی تاکہ مشرق وسطیٰ کے دیرینہ مسائل کو طاقت کے ذریعے حل کیا جا سکے مگر اب وہ اس فیصلے کا بوجھ اپنے ساتھیوں پر ڈالتے نظر آ رہے ہیں۔












