نیویارک میں 20 سالہ مسلم خاتون پر نفرت انگیز حملہ،ملزم کیتلاش جاری

0
2

نیویارک (پاکستان نیوز)بروکلن میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک 20 سالہ مسلم خاتون کو نسلی اور مذہبی منافرت کا نشانہ بناتے ہوئے تشدد اور ڈکیتی کا شکار بنایا گیا۔ نیویارک پولیس کے مطابق یہ حملہ میٹرو اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر اس وقت ہوا جب ایک نامعلوم شخص نے خاتون پر اسلام مخالف جملے کسے اور پھر انہیں وحشیانہ طریقے سے زمین پر دے مارا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے نہ صرف خاتون کو جسمانی نقصان پہنچایا بلکہ ان سے قیمتی اشیاء بھی چھین لیں۔ نیویارک پولیس کے شعبہ انسداد جرائم نے اس واقعے کو نفرت انگیز جرم قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ حکام نے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے حاصل کردہ ملزم کی تصویر جاری کر دی ہے جس میں اسے اسٹیشن کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی بھی اس شخص کے بارے میں معلومات رکھتا ہو تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کرے تاکہ اسے قانون کے شکنجے میں لایا جا سکے۔ مسلم کمیونٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہر میں مسلمانوں، خاص طور پر خواتین کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ عینی شاہدین اور پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم نے پہلے خاتون کی مذہبی شناخت کو نشانہ بناتے ہوئے اسلام مخالف نازیبا جملے کہے اور پھر اچانک ان پر جھپٹ پڑا۔ ملزم نے خاتون کو پکڑ کر بے رحمی سے زمین پر دے مارا جس سے انہیں جسمانی چوٹیں آئیں۔ ملزم نے صرف جسمانی تشدد پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ خاتون کا موبائل فون بھی چھین کر زمین پر پٹخ دیا تاکہ وہ مدد کے لیے کسی سے رابطہ نہ کر سکیں۔ نیویارک پولیس کے ہیٹ کرائم یونٹ نے اس واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے باقاعدہ طور پر نفرت انگیز جرم کے طور پر درج کر لیا ہے۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیویارک جیسے شہر میں کسی بھی شہری کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ ملزم کے حلیے کے مطابق وہ ایک مرد ہے جس کی تلاش کے لیے سب وے اسٹیشن اور ارد گرد کی تمام سی سی ٹی وی ویڈیوز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملزم کی شناخت میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ مسلم کمیونٹی میں پھیلی بے چینی کو ختم کیا جا سکے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here