ایران کی 6 شرائط ؛ اسلام آباد میں خفیہ مذاکرات جاری

0
2

نیویارک (پاکستان نیوز) پاکستان اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ سامنے آیا ہے جس کے تحت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے جلد از جلد پاکستان کے دورے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ دورے کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کو کم کرنا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا جائزہ لینا ہے۔ اگرچہ تاحال حکومت پاکستان یا واشنگٹن کی جانب سے باقاعدہ طور پر اس دورے کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین اس حوالے سے پس پردہ تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ واشنگٹن میں ایک صحافی نے وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست سوال کیا کہ کیا نائب صدر ایرانیوں سے مذاکرات کیلئے پاکستان جا رہے ہیں لیکن صدر ٹرمپ نے اس سوال کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا اور نائب صدر کی پاکستان روانگی کے متعلق کسی بھی قسم کا جواب دئیے بغیر وہاں سے گزر گئے۔دوسری جانب دفاعی اور سفارتی محاذ پر بھی بڑی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے جہاں فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے جس کی تصدیق وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اور پاکستانی فیلڈ مارشل کے درمیان ہونیوالی یہ گفتگو انتہائی حساس نوعیت کی ہے اور امریکہ فی الحال اس معاملے پر میڈیا کے ذریعے کسی قسم کی تفصیلات عام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس حساس صورتحال پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سفارت کاری میں بعض امور کو نہایت خاموشی سے آگے بڑھانا ہوتا ہے لہذا ذرائع ابلاغ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے حوالے سے غیر ضروری قیاس آرائیوں سے مکمل گریز کریں۔ ترجمان نے مزید تاکید کی ہے کہ میڈیا سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا اور کسی بھی حتمی فیصلے یا نتائج سے متعلق صرف سرکاری اعلانات کا ہی انتظار کرے گا۔ اسی تناظر میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی مذاکرات کی پیشکش کو مثبت انداز میں لیا ہے اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ عمل اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ گزشتہ 11 سے 12 دنوں سے خاموشی کے ساتھ اس پر کام جاری تھا اور پاکستان کے دفتر خارجہ کا امریکی شعبہ اس حوالے سے انتہائی متحرک رہا ہے۔ اس عمل کے لیے پہلے قطر، ترکی اور مصر جیسے ممالک کے ناموں پر بھی غور کیا گیا تھا تاہم مختلف وجوہات اور فریقین کے تحفظات کے باعث پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جس پر دونوں جانب سے اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے۔عسکری و سیاسی ذرائع کے مطابق آئندہ 24 گھنٹے انتہائی اہمیت کے حامل قرار دئیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران میں بھی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جہاں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نئے سربراہ کا تقرر کر دیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق ایرانی قیادت نے بھی شرائط کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی منظوری دے دی ہے۔ ان مذاکرات کے لیے دونوں اطراف سے کچھ ابتدائی شرائط بھی سامنے آئی ہیں جن میں ایران کی جانب سے نقصانات کا ازالہ اور خطے سے غیر ملکی اڈوں کا خاتمہ جبکہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری پروگرام جیسے معاملات شامل ہیں۔ پاکستان کی اس کامیاب سفارت کاری نے جہاں عالمی سطح پر اسے ایک اہم کھلاڑی کے طور پر منوایا ہے وہیں پڑوسی ملک بھارت میں اس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ وہ اس تمام عمل میں خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ اس جنگ کے اثرات معاشی طور پر بھی مرتب ہو رہے ہیں اور بحرین میں ڈرون حملوں کے باعث پاکستان میں کام کرنے والی ایک مالیاتی ایپ کا نظام بھی متاثر ہوا ہے تاہم ماہرین پرامید ہیں کہ اسلام آباد کی یہ کوششیں خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے میں کلیدی ثابت ہوں گی۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے چند روز کے دوران صورتحال اس وقت انتہائی خطرناک ہو گئی تھی جب امریکی قیادت نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی اور بصورت دیگر ایرانی دفاعی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی دی تھی جس کے جواب میں ایران نے بھی مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی مفادات اور سرمایہ کاری کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس سنگین صورتحال میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب اور ترکی جیسے ممالک بھی پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کو اس صورتحال میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی گہرے دفاعی اور سفارتی روابط قائم ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ کردار اسے دنیا بھر میں ایک ایسے ملک کے طور پر ابھار رہا ہے جو علاقائی استحکام برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور اسلام آباد میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عسکری سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی جس سے نہ صرف خطے میں امن قائم ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔جبکہ دوسری جانب سیاسی و دفاعی تجزیہ کار مذاکرات کو امریکہ کی پسپائی سے مشروط کر رہے ہیں۔ اکثر کے نزدیک مشرق وسطیٰ کے خون آلود میدان جنگ اور واشنگٹن کے بند کمروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ اسرائیل اتحاد کے درمیان جاری تنازع ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اسرائیل کو بدترین عسکری ہزیمت کا سامنا ہے جبکہ امریکی افواج خطے میں اپنی مسلسل پسپائی اور نقصانات کو روکنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس حقائق کو چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے۔ عالمی میڈیا اور مخصوص ویب سائٹس اس سنگین صورتحال کو مذاکرات اور سفارتی میزبانی جیسے خوشنما الفاظ کا نام دے کر ایک مصنوعی ابہام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ شکست خوردہ امریکی قیادت کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دیا جا سکے اور ایک واضح فوجی شکست کو سیاسی فتح کا رنگ دے کر پیش کیا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ چھ فولادی شرائط نے پینٹاگون کے جنگی منصوبوں اور صیہونی ریاست کے دفاعی غرور کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ان شرائط میں سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مستقبل میں ایران کی خود مختار سرزمین پر کسی بھی قسم کی جارحیت نہ کرنے کی قانونی اور بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کریں۔ ایران کی قیادت اب واشنگٹن کے زبانی وعدوں کو محض ردی کا ٹکڑا تصور کرتی ہے۔ دوسری بڑی شرط مشرق وسطیٰ کے پورے خطے سے تمام امریکی فوجی اڈوں کی مکمل بندش اور امریکی افواج کا غیر مشروط انخلا ہے تاکہ خطے کو غیر ملکی مداخلت سے پاک کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ایران نے حالیہ جنگ میں ہونے والے تمام معاشی اور جانی نقصانات کے بدلے مالی معاوضے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک تمام محاذوں بشمول لبنان، فلسطین اور یمن میں صیہونی اور امریکی جارحیت مکمل طور پر بند نہیں ہوتی تب تک جنگ بندی ممکن نہیں ہے۔ تہران کی نئی قیادت نے ابنائے ہرمز پر اپنا آہنی عسکری کنٹرول قائم کر لیا ہے اور وہاں ایک نیا قانونی نظام نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت صیہونی اور امریکی ہمدرد جہازوں کا گزرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ ایران اس اہم بحری راستے کو اب ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور وہاں سے گزرنے والے دیگر کارگو جہازوں پر بھاری فیس عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان سخت شرائط نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ انہوں نے ایران کو دیے گئے 48 گھنٹے کے الٹی میٹم میں خود ہی 5 دن کی توسیع کر دی ہے تاکہ کسی طرح فیس سیونگ کا راستہ نکالا جا سکے۔ معاشی محاذ پر بھی ایران نے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے اور تیل کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں کے لیے ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوان کا نظام اپنا لیا ہے جس سے امریکی پابندیوں کا اثر تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ابنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے ایران کے جزیرہ خارگ پر قبضے جیسے خطرناک منصوبوں پر غور کر رہے ہیں لیکن فوجی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام امریکی مرینز کے لیے خود کش ثابت ہوگا اور عالمی سطح پر توانائی کا ایک ایسا ہولناک بحران جنم لے گا جسے کوئی بھی بڑی معیشت برداشت نہیں کر سکے گی۔ موجودہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے فیصلے اب واشنگٹن کے بجائے میدان جنگ میں ہو رہے ہیں اور امریکہ کے پاس تہران کی شرائط ماننے یا مزید ذلت اٹھانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here