نیویارک (پاکستان نیوز)کینیڈا میں مقیم 21 سالہ پاکستانی شہری محمد شاہ زیب خان، جسے شاہ زیب جدون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے امریکی وفاقی عدالت میں نیویارک کے ایک ممتاز یہودی مرکز پر بڑے پیمانے پر فائرنگ اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے کے سنگین جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ سرحد عبور کر کے بروکلین میں قائم ایک یہودی مرکز میں خودکار ہتھیاروں سے قتل و غارت کرنا چاہتا تھا۔ شاہ زیب نے امریکی ڈسٹرکٹ جج پال گارڈفی کے سامنے اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کا اقرار کیا ہے، جس کے بعد اب اسے 12 اگست 2026 کو سزا سنائی جائے گی۔ تحقیقات کے مطابق شاہ زیب خان نے یہ منصوبہ شدت پسند تنظیم داعش کی حمایت میں تیار کیا تھا اور وہ 7 اکتوبر 2024 کو، یعنی اسرائیل پر حماس کے حملوں کی پہلی برسی کے موقع پر، اس وحشیانہ کارروائی کو انجام دینا چاہتا تھا۔ ملزم نے انڈر کور ایجنٹس (جو کہ دراصل امریکی حکام تھے) کو بتایا تھا کہ نیویارک یہودیوں کو نشانہ بنانے کے لیے بہترین جگہ ہے کیونکہ وہاں ان کی بڑی آبادی مقیم ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو یہ 11 ستمبر 2001 کے بعد امریکی سرزمین پر سب سے بڑا حملہ ثابت ہوگا۔ ملزم نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے نہ صرف جدید رائفلوں اور گولہ بارود کی فرمائش کی تھی بلکہ اس نے گلے کاٹنے کے لیے شکاری چاقو خریدنے کی ترغیب بھی دی تھی۔ شاہ زیب خان کو ستمبر 2024 میں کینیڈا سے امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران سرحد سے محض 12 میل دور گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے جون 2025 میں کینیڈا سے امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ عدالت میں جرم ثابت ہونے کے بعد ملزم کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کا قوی امکان ہے، جو کہ دہشت گردی کے ایسے سنگین جرائم کے لیے مقررہ زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔











