2 ہزار سٹوڈنٹس کامستقبل خطرے میں

0
11

واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکہ میں ویزوں کے اجراء میں تاخیر کی وجہ سے نیو ہیمپشائر کی ایک معروف یونیورسٹی کے تقریباً 2000 غیر ملکی گریجویٹ طلباء کا تعلیمی مستقبل شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔ یہ اہم معاملہ امریکی محکمہ داخلہ کے مالی سال 2027 کے بجٹ کے حوالے سے منعقدہ سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے دوران اس وقت سامنے آیا جب نیو ہیمپشائر سے تعلق رکھنے والی سینیٹر جین شاہین نے نیو انگلینڈ کالج کے نئے بزنس ایڈمنسٹریشن ڈاکٹریٹ پروگرام میں زیر تعلیم غیر ملکی طلباء کی رجسٹریشن سے جڑے التوا پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔سینیٹر شاہین نے کمیٹی کے روبرو محکمہ داخلہ کے سیکرٹری مارک وین مولن کو خبردار کیا کہ یونیورسٹی کو یکم جولائی کی حتمی مہلت کا سامنا ہے اور اگر اس تاریخ تک درکار منظوری حاصل نہ ہوئی تو تعلیمی ادارے اور طلبائ دونوں کو سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ یہ کالج مصنوعی ذہانت، قومی سلامتی اور طبی نگہداشت جیسے جدید ترین شعبوں کے لیے انتہائی ہنر مند پیشہ ور افراد تیار کر رہا ہے جو مقامی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ محکمہ داخلہ کے سیکرٹری مارک وین مولن نے معاملے کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے سینیٹ کو یقین دلایا کہ ان کا محکمہ اس درخواست کا جائزہ لے رہا ہے اور متعلقہ دستاویزات امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کو بھیج دی گئی ہیں۔ انہوں نے کالج کی انتظامیہ سے فوری رابطے کا وعدہ بھی کیا۔ واضح رہے کہ امریکی جامعات بالخصوص سائنس، ٹیکنالوجی اور کاروبار جیسے شعبوں میں بین الاقوامی طلباء پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں جن میں حالیہ برسوں کے دوران بھارتی طلبائ کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here