واشنگٹن (پاکستان نیوز)آئس نے ملک بھر میں گرین کارڈ فراڈ کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت ماضی میں منظور شدہ کیسز کو دوبارہ کھول کر ان کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ محکمے کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ تمام افراد جنہوں نے دھوکہ دہی یا غلط بیانی کے ذریعے مستقل رہائش کے حقوق حاصل کیے ہیں، اب قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ پرانے معاملات کی ری ویٹنگ کر رہا ہے اور اگر کسی نے یہ سوچا ہے کہ وہ ایک بار فائدہ حاصل کر کے بچ نکلا ہے تو یہ اس کی بھول ہے کیونکہ تفتیش کار اب برسوں پرانے کیسز کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اس مہم کو مؤثر بنانے کے لیے محکمے نے خصوصی ایجنٹوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور عوام کے لیے مخصوص ٹپ لائنز بھی متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دی جا سکے۔ اس کارروائی میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور بارڈر پروٹیکشن جیسے ادارے بھی باہمی اشتراک سے کام کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد امریکی عوام کا تحفظ اور ملک کو معاشی طور پر مستحکم رکھنا ہے۔ اس حوالے سے مالی خود کفالت کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ صرف ان لوگوں کو مستقل رہائش دی جائے گی جو ریاست پر بوجھ بننے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں خود اٹھانے کے اہل ہوں گے۔ ادارہ اب محض ایک انتظامی دفتر نہیں رہا بلکہ اس کی تفتیشی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اہلکاروں کو گرفتاریوں اور ہتھیار رکھنے کے اختیارات بھی دیے گئے ہیں تاکہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔








