نیویارک (پاکستان نیوز)میئر زہران ممدانی نے نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیوں اور اسٹریٹجک رسپانس گروپ کے خاتمے کے اپنے متنازع منصوبے پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے جس سے شہر میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ میئر ممدانی کی انتظامیہ نے حال ہی میں کولمبس اوہائیو میں ایک تحقیقاتی ٹیم بھیجی ہے تاکہ وہاں کے پولیس ماڈل کا مطالعہ کیا جا سکے جہاں مظاہروں کے دوران بات چیت کے ماہر افسران کو تعینات کیا جاتا ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ نیویارک جیسے عظیم الشان شہر کے لیے اوہائیو جیسے چھوٹے علاقے سے سبق سیکھنا مضحکہ خیز ہے کیونکہ نیویارک پولیس پہلے ہی احتجاجی لہروں کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں ہونے والے 4255 احتجاجی مظاہروں میں سے صرف 6 فیصد میں خصوصی دستوں کی ضرورت پڑی۔ میئر ممدانی کا ویژن پولیس فورس کو ایک کمیونٹی سیفٹی ایجنسی میں تبدیل کرنا ہے جہاں مسلح اہلکاروں کے بجائے سماجی کارکنوں کو ترجیح دی جائے۔ تاہم حالیہ دنوں میں گرینڈ سینٹرل اسٹیشن پر ہونے والے ایک وحشیانہ حملے نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ کیا سماجی کارکن ذہنی مریضوں کے پرتشدد حملوں کا مقابلہ کر سکیں گے؟ اس واقعے میں ایک جنونی شخص نے تین بوڑھے شہریوں پر چھرے سے حملہ کیا جسے پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے روکا۔ میئر کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ پولیس کے فنڈز کم کر کے کمیونٹی سیفٹی کے دفاتر قائم کرنا دراصل امن و امان کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی ایک سازش ہے جس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ممدانی اپنے اس عزم پر قائم ہیں کہ انسداد دہشت گردی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے والے یونٹس کو ختم کر دیا جائے گا۔









