نیویارک (پاکستان نیوز)ICEنے ملک بھر میں پیدائشی سیاحت کے ذریعے شہریت حاصل کرنے والے گروہوں کو بے نقاب کرنے کیلئے ایک نئی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز کی قیادت میں شروع کیے جانے والے اس اقدام کا مقصد ویزہ درخواستوں میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے مقدمات کو منظر عام پر لانا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس مہم کے نتیجے میں کتنے کیسز سامنے آ سکیں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ان نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کا منصوبہ رکھتی ہے جو حاملہ خواتین کو امریکی ویزے کے حصول کے لیے غلط بیانی پر اکساتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کو پیدا ہوتے ہی امریکی شہریت مل سکے۔ صدر ٹرمپ نے اس مسئلے کو بنیاد بنا کر پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنے کی کوششوں کا جواز پیش کیا ہے۔ 9 اپریل کو جاری ہونے والے ایک داخلی پیغام میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ ملک بھر میں پیدائشی سیاحت کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر توجہ دیں۔ اس آپریشن کے ذریعے ان گروہوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو غیر ملکی حاملہ خواتین کو امریکہ لانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے قانونی اور غیر قانونی امیگریشن کو کم کرنے کے لیے جارحانہ پالیسی اپنائی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کے مطابق بے لگام پیدائشی سیاحت ٹیکس دہندگان پر بھاری مالی بوجھ ڈالنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک پیدائشی بنیادوں پر خودکار شہریت فراہم نہیں کرتے۔ اگرچہ امریکہ میں بچے کو جنم دینا بذات خود کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے، تاہم ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ وہ ان وفاقی قوانین کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے جو اس عمل کی آڑ میں کی جاتی ہیں۔ امریکہ میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں جو پیدائشی سیاحت پر مکمل پابندی عائد کرتا ہو، لیکن 2020 میں نافذ کردہ ایک ضابطے کے تحت سیاحتی یا کاروباری ویزے کا بنیادی مقصد نومولود کے لیے شہریت حاصل کرنا ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ اس طرح کی سکیموں میں ملوث افراد کے خلاف دھوکہ دہی اور دیگر جرائم کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ سرکاری طور پر ایسے غیر ملکیوں کی تعداد کا کوئی حتمی ریکارڈ موجود نہیں جو صرف شہریت کے لیے امریکہ آتے ہیں، تاہم ایک اندازے کے مطابق سالانہ 20,000 سے 25,000 خواتین اس مقصد کے لیے امریکہ کا رخ کرتی ہیں۔ 2025 میں امریکہ میں ہونے والی مجموعی طور پر 3.6 ملین پیدائشوں میں اس طرح کے کیسز کا تناسب بہت کم ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے ہی دن ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت ایسے بچوں کو شہریت نہ دینے کی ہدایت کی گئی جن کے والدین امریکی شہری یا قانونی مستقل رہائشی نہ ہوں۔ اگرچہ وفاقی عدالتوں نے اس حکم نامے کو معطل کر دیا تھا، لیکن اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے۔ حکومتی وکلائ کا موقف ہے کہ خودکار شہریت کے قانون نے غیر ملکیوں کو شہریت کی صنعت قائم کرنے کی ترغیب دی ہے، جس سے ایسے امریکی شہری پیدا ہو رہے ہیں جن کا ملک کے ساتھ کوئی حقیقی تعلق نہیں ہے۔ ماضی میں بھی جنوبی کیلیفورنیا میں اس طرح کے مراکز کے خلاف کارروائیاں کی جا چکی ہیں جہاں خاص طور پر چین سے آنے والی خواتین کو سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔ اب نئی مہم کے ذریعے مالیاتی جرائم اور امیگریشن کے عمل کا استحصال کرنے والے منظم نیٹ ورکس کو توڑنے کی کوشش کی جائے گی۔













