نیویارک (پاکستان نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کو اس تنازعے سے دور رہنے کی سخت وارننگ دی ہے۔ اس ویڈیو کو مختلف پلیٹ فارمز پر ہزاروں بار دیکھا اور شیئر کیا جا چکا ہے، جس سے عوامی سطح پر کافی تشویش پیدا ہوئی۔ وائرل ہونے والے اس کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مبینہ طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے اسرائیل اور امریکا کو خبردار کیا ہے اور ایران پر حملے کی صورت میں وہ سخت جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ ویڈیو میں یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کی مسلح افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کے خلاف انتہائی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ تحقیقات اور حقائق کی جانچ پڑتال سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ یہ تمام دعوے سراسر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ باریک بینی سے کیے گئے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو دراصل مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور اس میں شامل آواز بھی حقیقی نہیں ہے۔ تصویروں کی تلاش کے دوران پتا چلا کہ اس ویڈیو میں استعمال کی گئی اصل فوٹیج 30 مئی 2025 کی ہے، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس پریس کانفرنس کا ایران اور اسرائیل کی حالیہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پوری گفتگو میں کہیں بھی پاکستان کے وزیر دفاع یا کسی ممکنہ جنگی وارننگ کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے صرف ایک بار پاکستان کا حوالہ دیا تھا اور وہ بھی بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی پر دونوں ممالک کے حکام کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تھا۔ مصنوعی مواد کی شناخت کرنے والے ماہرین نے بھی اس ویڈیو کی جانچ کی ہے جس کے مطابق اس کے جعلی ہونے کے امکانات 95 فیصد سے بھی زائد ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں پاکستان، اس کی فوج یا وزیر دفاع سے متعلق کوئی ایسا بیان جاری نہیں کیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبر محض گمراہ کن پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔











