سپریم کورٹ نے لوزیانا میں مئی میں ہونیوالے انتخابات معطل کر دئیے

0
15

نیویارک (پاکستان نیوز)سپریم کورٹ نے ووٹنگ رائٹس ایکٹ کے ایک اہم مقدمے میں غیر معمولی تیزی دکھاتے ہوئے اپنے فیصلے کے فوری نفاذ کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے لوزیانا کے ریپبلکن رہنماؤں کی درخواست پر اپنے معمول کے 32 روزہ انتظار کے دورانیے کو ختم کر کے فیصلہ فوری طور پر نافذ کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس عدالتی اقدام کا مقصد ریاست کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل نئے انتخابی نقشے تیار کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے تاہم اس فیصلے نے ملک میں ایک نئی قانونی اور سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ ریاستی حکام نے عدالتی فیصلے کی روشنی میں 16 مئی کو ہونے والے کانگریس کے ابتدائی انتخابات منسوخ کر دیے ہیں حالانکہ بیرون ملک مقیم ووٹرز کو بیلٹ پیپرز پہلے ہی ارسال کیے جا چکے تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر ججوں کے درمیان بھی شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ جسٹس کیٹانجی براؤن جیکسن نے اپنے اختلافی نوٹ میں اکثریت کے اس فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے رائج ضابطوں سے انحراف کیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 25 برسوں میں ایسا صرف دو بار ہوا ہے کہ کسی فیصلے کے نفاذ میں اتنی جلدی کی گئی ہو۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس عمل سے عدلیہ کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اکثریتی بینچ کے ججوں کا موقف ہے کہ انتخابی شیڈول کی حساسیت اور وقت کی کمی کے باعث یہ قدم اٹھانا ضروری تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اقلیتوں کے ووٹنگ حقوق کے تحفظات میں اضافہ ہوگا کیونکہ نئے نقشوں کی تیاری سے کئی حلقوں میں سیاسی توازن تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے عام انتخابات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here