نیویارک (پاکستان نیوز)ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوجی تنازعات کے بیچ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن تہران میں درست لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ایرانی حکام جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے کے شدید خواہش مند ہیں۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر کی حلف برداری کی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ ایران نے ایک بہت بڑا تحفہ بھیجا ہے جس کی مالیت اربوں میں ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ صحیح لوگوں سے بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تحفہ جوہری معاملات سے متعلق نہیں بلکہ تیل اور گیس کے شعبے سے وابستہ ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ان مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر سمیت متعدد اہم شخصیات شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب سمجھداری کی باتیں کر رہا ہے اور اس بات پر اتفاق کر چکا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ اگرچہ ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی لیکن تہران طویل عرصے سے یہ موقف رکھتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایرانی قیادت کو دو بار ختم کیا ہے اور خبردار کیا کہ نئی قیادت کو بھی باآسانی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ معاملات بہت جلد طے پا جائیں گے، تاہم انہوں نے یہ بھی تذکرہ کیا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین ممکنہ معاہدے پر کچھ حد تک مایوس ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 28 فروری سے جاری امریکہ اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت 1340 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اثاثوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں جس سے عالمی منڈیوں اور ہوائی سفر پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب اسرائیل نے 2 مارچ سے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کیں اور 3 مارچ کو جنوبی لبنان میں زمینی مداخلت شروع کر دی۔














