نیویارک (پاکستان نیوز)امریکی انٹیلی جنس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چین کا 2027 تک تائیوان پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ اس جزیرے کو طاقت کے بجائے دیگر ذرائع سے اپنے ساتھ ملانے کو ترجیح دیتا ہے۔ واشنگٹن میں جاری ہونے والی اس سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی قیادت نے تائیوان کے اتحاد کے لیے فی الحال کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی ہے بلکہ وہ پرامن طریقے سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چین تائیوان پر قبضے کے لیے اپنی فوجی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ تو کر رہا ہے لیکن وہ کسی بھی ایسی فوجی کارروائی کے خطرات سے بخوبی واقف ہے جس میں امریکہ کی مداخلت کا امکان ہو۔ رپورٹ کے مطابق چینی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ سمندر کے راستے تائیوان پر حملہ کرنا ایک انتہائی مشکل اور پرخطر عمل ہو سکتا ہے جس میں ناکامی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چین کا اصل ہدف 2049 تک قومی تجدید کے منصوبے کے تحت تائیوان کو مکمل طور پر اپنے ساتھ شامل کرنا ہے تاہم وہ 2026 اور اس کے بعد کے برسوں میں فوجی تصادم سے بچتے ہوئے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرے گا جس سے تائیوان خود بخود بیجنگ کے قریب آ جائے۔ اس نئی تشخیص نے ان سابقہ خدشات کو کم کر دیا ہے جن میں امریکی دفاعی حکام نے 2027 کو حملے کا ممکنہ سال قرار دیا تھا۔ چینی دفتر خارجہ نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ کو چین کے بارے میں اپنے غلط تاثرات درست کرنے چاہئیں اور خطرے کے بے بنیاد پروپیگنڈے سے گریز کرنا چاہیے۔












