نیویارک (پاکستان نیوز)سابق امریکی خصوصی کونسل رابرٹ مولر جو2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ماسکو کے ساتھ مبینہ روابط کی تحقیقات کیلئے مشہور تھے اکیاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خبر پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انتہائی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رابرٹ مولر کے مرنے پر انہیں خوشی ہے کیونکہ اب وہ مزید بے قصور لوگوں کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی ان کی تحقیقات کو ایک ڈھونگ اور سیاسی سازش قرار دیتے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایف بی آئی کے سابق حکام اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ٹرمپ کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے اور رابرٹ مولر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک دیانت دار اور فرض شناس سرکاری افسر قرار دیا ہے۔ رابرٹ مولر کے دور میں روسی مداخلت کی تحقیقات کے نتیجے میں ٹرمپ کے کئی قریبی ساتھیوں کو سزائیں بھی ہوئی تھیں تاہم خود صدر پر براہ راست کوئی مجرمانہ الزام ثابت نہیں ہو سکا تھا۔یاد رہے کہ ان کے اہل خانہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں اس افسوسناک خبر کی تصدیق کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رابرٹ مولر گزشتہ رات وفات پا گئے ہیں۔ اہل خانہ نے اس مشکل وقت میں اپنی رازداری کا احترام کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ رابرٹ مولر کو دو ہزار سترہ میں اس وقت کے نائب اٹارنی جنرل راڈ روزنسٹائن نے وفاقی تحقیقات کی نگرانی کے لیے خصوصی کونسل کے طور پر تعینات کیا تھا۔ ان کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات نے امریکی سیاست میں ایک ہلچل پیدا کر دی تھی اور کئی برسوں تک عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہی تھیں۔ رابرٹ مولر کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور غیر جانبداری کے لیے جانا جاتا تھا اور انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انصاف کی فراہمی کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان کی موت پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ اپنی طویل تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہیں گے جس نے امریکی صدارتی نظام اور غیر ملکی مداخلت کے پہلوؤں کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔











