ایران میں نہیں امریکہ میں رجیم چینج ہونا چاہیے، ٹرمپ کی بھتیجی بھی ٹرمپ کیخلاف

0
6

واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کیخلاف شروع کی گئی فوجی مہم پر اندرون ملک شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جہاں ان کی اپنی بھتیجی میری ایل ٹرمپ نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ہفتے کے روز نو کنگز کے عنوان سے نکالی گئی احتجاجی ریلیوں میں ملک بھر سے 80 لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے جسے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے ایران میں جاری فوجی مداخلت اور امریکا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ اس ابتر صورتحال میں میری ایل ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پروگرام کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں انہوں نے رواں سال فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے جواز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلسل اپنے بیانات بدل رہی ہے اور صدر ٹرمپ کو ایرانی عوام کی فلاح و بہبود یا ان کی آزادی سے کوئی حقیقی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر بم باری کرنے والے صدر کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں جس سے وہاں کے عوام کو فائدہ پہنچ سکے بلکہ یہ جنگ کسی فوری خطرے کے بغیر شروع کی گئی ہے جو امریکی عوام کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ میری ایل ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ صدر ٹرمپ جس حکومت کی تبدیلی کی توقع ایران میں کر رہے ہیں وہ انہیں خود امریکا میں دیکھنی پڑے گی کیونکہ عوام اب موجودہ پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ ان تمام مظاہروں اور تنقید کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا عمل مکمل ہو چکا ہے کیونکہ وہاں کی موجودہ قیادت اپنی ابتدائی شکل سے بالکل مختلف ہو چکی ہے۔ تاہم عوامی سطح پر غم و غصہ برقرار ہے اور نو کنگز تحریک کے تحت ہونے والے یہ مظاہرے حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here