نیتن یاہو کی پرسرار گمشدگی اور ہلاکت ! افواہیں یا حقیقی دعوے!

0
8

نیویارک (پاکستان نیوز) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہلاکت سے متعلق گردش کرنے والی متضاد خبروں نے عالمی سطح پر ایک نیا ہیجان پیدا کر دیا ہے جہاں ایک طرف ایرانی ذرائع ابلاغ ان کی موت کے دعوے کر رہے ہیں تو دوسری جانب اسرائیل ان تمام اطلاعات کو سختی سے مسترد کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں تہران کی جانب سے یروشلم میں کیے گئے میزائل حملوں کے بعد یہ افواہیں شدت اختیار کر گئیں کہ نیتن یاہو کا دفتر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور وہ خود اس حملے میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایرانی میڈیا بالخصوص سرکاری خبر رساں اداروں نے ان قیاس آرائیوں کو ہوا دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم کئی روز سے عوامی منظر نامے سے غائب ہیں اور ان کی جانب سے کوئی مستند تازہ ویڈیو پیغام جاری نہ ہونا ان کی موت یا شدید زخمی ہونے کی واضح علامت ہو سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ ان کے میزائلوں نے مطلوبہ اہداف کو درست طریقے سے نشانہ بنایا ہے جس نے دشمن کے صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے اور اب حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو محض پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم بالکل خیریت سے ہیں اور بدستور اپنی سرکاری ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے نیتن یاہو کی چند حالیہ تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی ہیں جن میں انہیں تل ابیب کے مختلف مراکز کا دورہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے تاکہ ان کی موت کی خبروں کی تردید کی جا سکے تاہم بین الاقوامی مبصرین ان تصاویر کے وقت اور مقام پر اب بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی زندگی یا موت سے قطع نظر ان کی جنگی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں جبکہ تل ابیب ان خبروں کو دشمن کی بوکھلاہٹ قرار دے رہا ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں مشرق وسطیٰ کی اس پراسرار صورتحال پر ٹکی ہوئی ہیں جہاں سچ اور جھوٹ کی سرحدیں دھندلا گئی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here