واشنگٹن(پاکستان نیوز)سینیٹ میں ٹرمپ کی جانب سے ایران کیخلاف کانگریس کی اجازت کے بغیر مزید فوجی اقدامات کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کی قرارداد ناکام ہوگئی ہے۔ اس اہم رائے شماری میں قرارداد کے حق میں 47 جبکہ مخالفت میں 53 ووٹ آئے۔ سیاسی طور پر منقسم اس ایوان میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے رینڈ پال وہ واحد رکن تھے جنہوں نے اپنی جماعت کے برخلاف ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس قرارداد کی حمایت کی۔ دوسری جانب جان فیٹرمین وہ واحد ڈیموکریٹ رکن ثابت ہوئے جنہوں نے اپنی پارٹی کی پالیسی سے ہٹ کر اس اقدام کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کو ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم جاری رکھنے کے لیے قانونی طور پر مزید تقویت حاصل ہوگئی ہے۔ امریکی آئین اور قانونی ڈھانچے میں جنگی اختیارات کی تقسیم ایک طویل اور پیچیدہ بحث رہی ہے۔ اس قرارداد کے تناظر میں سب سے اہم نکتہ 1973 کا جنگی اختیارات کا قانون ہے، جو صدر کو مسلح افواج کا سربراہ ہونے کے ناطے ہنگامی حالات میں کارروائی کا حق تو دیتا ہے لیکن اس پر یہ لازم کرتا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی اقدام کے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر کانگریس کو باقاعدہ آگاہ کرے۔ اگر کانگریس ساٹھ دنوں کے اندر اس مہم کی منظوری نہیں دیتی، تو صدر قانونی طور پر اپنی افواج واپس بلانے کا پابند ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی پارلیمان یعنی کانگریس کے پاس بجٹ کی طاقت بھی ایک اہم ہتھیار ہے۔ اگرچہ صدر براہِ راست فوجی احکامات جاری کر سکتے ہیں، لیکن کسی بھی طویل جنگ کے لیے درکار فنڈز کی فراہمی کانگریس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ حالیہ قرارداد کی کوشش دراصل صدر کے ان ہی صدارتی اختیارات کو مزید سخت کرنا تھا تاکہ ایران کے ساتھ کسی بھی بڑی فوجی تصادم سے پہلے پارلیمان کی پیشگی منظوری کو لازمی بنایا جا سکے۔ ایک اور اہم قانونی پہلو صدارتی ویٹو کا اختیار ہے۔ اگر ایسی کوئی قرارداد سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں سے منظور ہو کر صدر کے پاس پہنچتی ہے، تو صدر اسے مسترد کر سکتا ہے۔ اس ویٹو کو ختم کرنے کے لیے ایوان میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے، جو موجودہ سیاسی تقسیم کے باعث عملاً ایک مشکل ہدف نظر آتا ہے۔









