واشنگٹن (پاکستان نیوز)سابق صدر بل کلنٹن نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں بتایا تھا کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ وقت بہت اچھا گزرا تھا، تاہم بعد میں ایک جائیداد کے سودے پر دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ ایوان کی نگرانی کی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بل کلنٹن نے یہ گواہی ایک خیراتی گالف ٹورنامنٹ کے دوران ہونے والی گفتگو کے حوالے سے دی۔ بل کلنٹن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے ماضی میں ایپسٹین سے دوستی ختم ہونے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ایپسٹین نے ان کے ریزورٹ سے عملے کی خواتین کو اپنے پاس کام پر رکھ لیا تھا جس پر انہوں نے ایپسٹین کو وہاں ا?نے سے روک دیا تھا۔ تاہم اب سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بل کلنٹن نے کمیٹی کے سامنے بیان دیا کہ اصل میں ان کے درمیان دوری کی وجہ ایک زمین کا سودا بنی تھی۔ کلنٹن نے مزید بتایا کہ ٹورنامنٹ کے دوران ٹرمپ خود ان کے پاس ا?ئے اور اس موضوع پر بات کی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے خود ایپسٹین کا ذکر چھیڑا تھا تو کلنٹن نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی خود سے ایسی گفتگو شروع نہیں کرتے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی نگرانی کی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ان حالیہ بیانات نے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کے اہم نکات میں بل کلنٹن اور ہیلری کلنٹن کی یہ گواہی ایک طویل قانونی جنگ کے بعد سامنے آئی ہے۔ ریپبلکن قیادت والی کمیٹی نے گزشتہ کئی ماہ سے دونوں کو طلب کر رکھا تھا اور ان کے انکار پر انہیں توہین پارلیمان کی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس کے بعد وہ فروری 2026 کے آخری ہفتے میں پیش ہونے پر راضی ہوئے۔ بل کلنٹن نے اپنے حلفیہ بیان میں واضح کیا کہ ان کے جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات محض سماجی اور فلاحی کاموں تک محدود تھے اور وہ ایپسٹین کے جرائم سے مکمل طور پر لاعلم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر خزانہ لیری سمرز نے ان کا تعارف ایپسٹین سے ایک ایسے مخیر شخص کے طور پر کرایا تھا جو ان کی فاؤنڈیشن کے کاموں میں دلچسپی رکھتا تھا۔ دوسری جانب ہیلری کلنٹن نے اپنے بیان میں کسی بھی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ انہیں یاد بھی نہیں کہ وہ کبھی ایپسٹین سے ملی ہوں۔ انہوں نے اس پوری کارروائی کو سیاسی تماشہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اسی طرح طلب کر کے ان سے پوچھ گچھ کی جانی چاہیے کیونکہ ان کے بھی ایپسٹین کے ساتھ قریبی مراسم رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ بل کلنٹن کی پیشی نے ایک مثال قائم کر دی ہے اور اب ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس گواہی سے بچنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور حقائق عوام کے سامنے لانے کے لیے ضروری ہیں۔










