واشنگٹن (پاکستان نیوز)ٹرمپ نے حالیہ انٹرویو میں ایران کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس بات پر پریشان نہیں ہیں کہ وہاں کی ریاست جمہوری ہو یا نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اب وہ ملک نہیں رہا جو ایک ہفتہ پہلے تھا اور اب اس کی طاقت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران میں ایسی نئی قیادت دیکھنا چاہتے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بہتر سلوک کرے، چاہے وہ کوئی مذہبی رہنما ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں مذہبی رہنماؤں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ وہ بہت سے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ان کا تجربہ مثبت رہا ہے۔ انہوں نے ایران میں تبدیلی کے عمل کو وینزویلا کی مثال سے تشبیہ دی جہاں ان کے بقول امریکی مداخلت کے بعد نظام بہتر طریقے سے کام کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں نئی قیادت کا انتخاب ایک آسان عمل ہوگا اور وہ خود اس عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ صدر نے مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ انتظامیہ نے ان ممالک کو نظر انداز کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ چین کی طرف مائل ہو رہے تھے، لیکن انہوں نے ان کے ساتھ دوبارہ دوستی قائم کی۔ ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایرانی بحریہ کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے اور ان کے پچیس بحری جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے اطمینان ظاہر کیا کہ یہ اضافہ عارضی ہے اور جلد ہی قیمتیں دوبارہ نیچے آ جائیں گی۔









