ایران کی مکمل تباہی کا پلان؛ایٹمی حملے کا خدشہ

0
7

نیویارک (پاکستان نیوز) ایران اور امریکہ کے مابین جاری حالیہ کشیدگی اب ایک ایسے نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں دنیا بھر کے دفاعی مبصرین اور سیاسی مفکرین ایٹمی تصادم کے امکانات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی منظر نامے پر رونما ہونیوالے حالیہ واقعات بشمول برطانیہ کے فضائی اڈوں پر امریکی بمبار طیاروں کی اچانک تعیناتی نے اس خوف کو مزید تقویت دی ہے کہ یہ تنازع کسی بھی وقت کنٹرول سے باہر ہو کر عالمی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ کی فضا بارود کی بو سے بوجھل ہے اور دونوں جانب سے کی جانے والی عسکری نقل و حرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ فریقین اب محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی طور پر ایک دوسرے کے کلیدی مراکز کو نشانہ بنانے کی بھرپور تیاری کر چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ جنگ اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نشانہ خطے کی معاشی شہ رگ اور توانائی کے ذخائر ہوں گے جس سے پوری دنیا میں زندگی مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ جاری کشیدگی کے دوران برطانیہ کے فضائی اڈے فیئرفورڈ پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بھاری بھرکم بمبار طیاروں کی اچانک آمد نے عالمی سیاست اور جنگی حکمت عملی میں ایک نیا ہلچل مچا دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران متعدد جدید ترین بمبار طیاروں نے برطانوی سرزمین پر لینڈنگ کی ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو مزید تیز کرنا ہے۔ ان طیاروں میں وہ عظیم الجثہ بمبار بھی شامل ہیں جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور بھاری بھرکم روایتی و غیر روایتی ہتھیاروں کو لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اپنے فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت ملنے کے بعد اب ان طیاروں کے لیے تہران اور دیگر اہم مراکز تک رسائی انتہائی آسان اور کم وقت میں ممکن ہو گئی ہے جس سے جنگ کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ ان طیاروں کی برطانیہ میں موجودگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب محض دفاعی پوزیشن سے نکل کر بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ان طیاروں کی تعیناتی نے ایٹمی تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے کیونکہ یہ طیارے ایٹمی ہتھیاروں کو لے جانے اور داغنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ امریکی حکام اسے دفاعی اقدام قرار دے رہے ہیں لیکن جنگی محاذ پر ان کی موجودگی نے تہران کو بھی انتہائی اقدامات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے پہلے ہی متنبہ کیا جا چکا ہے کہ اگر ان کی سرزمین پر مزید بڑے حملے ہوئے تو وہ اپنے پاس موجود تمام تر وسائل بشمول ایٹمی صلاحیتوں کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے۔ اس صورتحال نے پوری دنیا کو ایک ایسی غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے جہاں کسی بھی ایک غلطی کا نتیجہ پوری انسانیت کی بربادی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس وقت ان طیاروں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ ان کی آمد سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات کے دروازے مزید تنگ ہوتے جا رہے ہیں اور فوجی طاقت کا استعمال ہی واحد راستہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان طیاروں کے ذریعے ایرانی میزائل مراکز اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا امریکی ترجیحات میں شامل ہو سکتا ہے جس کے ردعمل میں ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا طریقہ کار انتہائی تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اگر یہ جنگ اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں جب دنیا کو کسی بڑے ایٹمی حادثے یا باقاعدہ جوہری جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فی الحال تمام نظریں ان بمبار طیاروں کے اگلے مشن پر جمی ہیں جو آنے والے دنوں میں اس جنگ کا حتمی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اور تیزی سے ہونے والا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اس جنگ کے طویل ہونے اور سپلائی لائن میں تعطل آنے سے بے حد خوفزدہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان طیاروں کے ذریعے ایرانی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا یا آبنائے ہرمز میں آمد و رفت مکمل طور پر بند ہو گئی تو عالمی معیشت ایک ایسے بحران کا شکار ہو سکتی ہے جس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ کئی بڑے تجارتی بحری جہازوں نے پہلے ہی اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں جس سے اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب برطانوی پارلیمان میں اس حساس معاملے پر ایک طویل اور گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی ہے۔ حزب اختلاف کے اراکین نے حکومت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت امریکی طیاروں کو برطانوی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اراکین پارلیمان کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے برطانیہ براہ راست اس جنگ کا حصہ بن گیا ہے جس کے نتائج برطانوی عوام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پارلیمان میں ہونے والی اس بحث کے دوران بعض اراکین نے اسے ماضی کی غلطیوں کا تسلسل قرار دیا جبکہ حکومتی وزراء نے دفاع کیا کہ یہ اقدام صرف دفاعی مقاصد اور خطے میں موجود برطانوی مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان طیاروں کی موجودگی ایران کو مزید اشتعال انگیزی سے باز رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس سے کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافے کا امکان زیادہ ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس تعیناتی کے خلاف لندن اور دیگر بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں جہاں شہری حکومت سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو کسی بھی صورت ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہونے والی اس جنگ کا ایندھن نہیں بننا چاہیے۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو افراط زر کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے جو براہ راست عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرے گا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں ان طیاروں کے اگلے قدم اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے پس پردہ مذاکرات پر لگی ہیں کیونکہ معاشی استحکام اور سیاسی امن کا دارومدار اب اسی تنازع کے پرامن حل پر منحصر ہے۔ سیاسی طور پر بھی یہ جنگ ایک بڑے عالمی تقسیم کا سبب بن رہی ہے جہاں مختلف ریاستیں اپنے مفادات کے تحت کسی نہ کسی فریق کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ برطانوی پارلیمان میں ہونے والی بحث ہو یا عوامی سطح پر جاری احتجاجی مظاہرے ہر جگہ ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا انسانیت کو ایک بار پھر کسی ایٹمی حادثے یا باقاعدہ جوہری جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا جائے گا۔ امریکی سیاسی قیادت پر لگنے والے سنگین الزامات اور اندرونی سیاسی دباؤ نے بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سیاسی بقا کی خاطر جنگ کو ہوا دینا ایک خطرناک حکمت عملی ہے۔ اس نازک موڑ پر ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اپنی خاموشی توڑ کر فوری طور پر مداخلت کرے اور طاقت کے اندھے استعمال کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ دنیا کو اس ایٹمی قیامت سے بچایا جا سکے جو افق پر صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ جنگ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے جغرافیے اور انسانی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے ایک سیاہ باب میں بدل کر رکھ دے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here