واشنگٹن (پاکستان نیوز)محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ میں اب تک لگ بھگ 140 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے بتایا کہ آپریشن ایپک فیوری کے آغاز سے اب تک 10 دنوں کے دوران مسلسل ہونے والے حملوں میں یہ زخمی ہوئے ہیں۔ پینٹا گان کے اس بیان کے برعکس ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے 140سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی جنگی جہازکو ایرانی نیوی نے یرغمال بنانے کی کوشش کی لیکن تصادم کی وجہ سے جہاز پر موجود تمام امریکی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ پینٹاگان کے ترجمان کے مطابق ان میں سے زیادہ تر اہلکاروں کو معمولی نوعیت کے زخم آئے ہیں اور 108 فوجی طبی امداد کے بعد دوبارہ اپنی ذمہ داریوں پر واپس آ چکے ہیں، جبکہ 8 اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے جنہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بھی ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے مزید معلومات کے لیے پینٹاگون سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اتوار کو سعودی عرب میں امریکی افواج پر ہونے والے حملے میں ایک اور فوجی کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اس جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد 7 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل کویت میں ایک عارضی فوجی مرکز پر حملے میں بھی 6 امریکی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے منگل کے روز میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے اندر حملوں میں مزید شدت لائی جائے گی اور دعویٰ کیا کہ امریکہ اس جنگ میں فتح حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کا دن ایران میں بمباری کے لحاظ سے شدید ترین ہوگا جس میں پہلے سے کہیں زیادہ جنگی طیارے اور بمبار حصہ لیں گے۔ ایک پارلیمانی ذرائع کے مطابق اس تنازع کے ابتدائی دو دنوں میں ہی امریکہ 5.6 ارب ڈالر کا اسلحہ اور گولہ بارود استعمال کر چکا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع دونوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں مزید جانی نقصان ہو سکتا ہے، تاہم وزیر دفاع نے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کو شہ سرخیوں میں جگہ دینے پر میڈیا کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔










