سپریم کورٹ کاٹرمپ کے اضافی ٹیرف کیخلاف تاریخی فیصلہ

0
8

(پاکستان نیوز)امریکہ کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں صدارتی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ اضافی محصولات کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ملک کے اندر ایک نئی آئینی اور معاشی بحث چھڑ گئی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کا سہارا لے کر تجارت پر قدغن لگانا انتظامیہ کے دائرہ اختیار سے باہر تھا کیونکہ ٹیکسوں کے نفاذ اور مالیاتی پالیسیوں کی تشکیل کا بنیادی حق صرف عوامی نمائندوں کی مجلس یعنی مقننہ کے پاس محفوظ ہے۔ اس فیصلے کے فوراً بعد مقامی منڈیوں اور بڑے کاروباری اداروں میں بے یقینی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ گزشتہ ایک سال کے دوران جمع کیے گئے کھربوں روپے کی واپسی کا عمل اب ایک قانونی معمہ بن چکا ہے۔ وفاقی اداروں کے لیے اتنی بڑی رقم کی واپسی نہ صرف تکنیکی طور پر دشوار ہے بلکہ اس سے سرکاری خزانے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ملکی صنعت کاروں اور تاجروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ اس فیصلے سے درآمدی لاگت میں کمی آئے گی لیکن صدارتی دفتر کی جانب سے نئے متبادل قوانین کے استعمال کی دھمکی نے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیا ہے۔ بہت سے تجارتی اداروں نے گزشتہ برس کے دوران ان محصولات کے بوجھ سے بچنے کے لیے اپنی رسد کے ذرائع تبدیل کر لیے تھے اور اب اچانک عدالتی مداخلت کے بعد انہیں دوبارہ اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنی پڑ رہی ہے جس سے انتظامی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ محصولات کے خاتمے سے عام صارفین کو اشیائ کی قیمتوں میں فوری ریلیف ملنے کی توقع تو ہے مگر کاروباری حلقے اس رقم کو اپنے سابقہ نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ قومی سلامتی اور توازنِ ادائیگی کے دیگر قوانین کو بروئے کار لا کر دوبارہ تجارتی پابندیاں عائد کر سکتی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہیں۔ اس صورتِ حال نے امریکہ کے اندرونی سیاسی ڈھانچے میں مقننہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی جنگ کو مزید تیز کر دیا ہے اور مبصرین اسے حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا انتظامی بحران قرار دے رہے ہیں۔ ملکی سطح پر اس فیصلے کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ یہ آنے والے انتخابات اور سیاسی اتحادوں پر بھی اثر انداز ہوں گے کیونکہ اب ہر قدم پر عدالتی نگرانی اور قانونی گرفت کا خوف موجود رہے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here