نیویارک (پاکستان نیوز)امریکہ میں ہونیوالے ایک تازہ ترین عوامی جائزے کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کے درمیان صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں گزشتہ سال مارچ کے مقابلے میں تین فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سروے میں صرف چوالیس فیصد شرکا نے صدر کی کارکردگی پر مکمل یا جزوی اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ گزشتہ برس یہی شرح سینتالیس فیصد تھی۔ اس کے برعکس چون فیصد افراد نے ان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا ہے، جو پچھلے سال کے اکاون فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران صدر ٹرمپ کو کئی محاذوں پر سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں امیگریشن سے متعلق ان کے سخت ایجنڈے پر تنقید، جیفری ایپسٹین کیس سے جڑی فائلوں سے نمٹنے کا طریقہ کار اور گزشتہ سال انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی بڑی کامیابیاں شامل ہیں۔ مختلف پولنگ اداروں کے اوسط اعداد و شمار بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی مقبولیت اس وقت تقریباً تینتالیس فیصد کی سطح پر ہے جبکہ ناپسندیدگی کا تناسب چون فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔ سروے کے دیگر نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ تریپن فیصد لوگ سرحدی سیکیورٹی پر ان کے اقدامات کے حامی ہیں، جبکہ بیالیس فیصد امیگریشن اور اکتالیس فیصد ایران کے ساتھ جاری تنازع کے معاملے پر ان کی کوششوں کو درست سمجھتے ہیں۔ اس سال کے آغاز میں صدر نے خود بھی آنے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ممکنہ کامیابی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی طور پر جس جماعت کا صدر وائٹ ہاؤس میں ہوتا ہے، وہ عموماً وسط مدتی انتخابات میں بہتر کارکردگی نہیں دکھا پاتی، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس روایت کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔










