ایران ؛ سپریم لیڈر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

0
8

تہران (پاکستان نیوز)ایران کے طاقتور ترین سیاسی اور مذہبی عہدے یعنی سپریم لیڈرکے انتخاب کا عمل جہاں آئینی پیچیدگیوں کا حامل ہے وہیں اس میں مجلسِ خبرگانِ رہبری کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران جو اس وقت دنیا میں اہل تشیع آبادی کی اکثریت والا سب سے طاقتور ملک تصور کیا جاتا ہے، وہاں کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے لیے آیت اللہ ہونا لازمی ہے، تاہم ماضی میں موجودہ رہبر علی خامنہ ای کے انتخاب کے وقت اس قانون میں نرمی کی گئی تھی تاکہ وہ یہ منصب سنبھال سکیں۔ ایران میں 88 جید علما پر مشتمل ایک بااختیار ادارہ جسے مجلسِ خبرگانِ رہبری کہا جاتا ہے، نئے رہبر کے انتخاب کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس ادارے کے اراکین کو ہر آٹھ سال بعد ایرانی عوام اپنے ووٹوں سے منتخب کرتے ہیں، لیکن ان امیدواروں کے لیے شوریٰ نگہبان کی منظوری لازمی ہوتی ہے جس کے اراکین کا تقرر بلاواسطہ یا بالواسطہ موجودہ رہبرِ اعلیٰ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ سال 2024 میں ہونے والے انتخابات میں علی خامنہ ای کے حامیوں نے اس کونسل کی تمام نشستیں جیت لی تھیں، جبکہ سابق صدر ابراہیم رئیسی سمیت دیگر ارکان کی وفات سے خالی ہونے والی چار نشستوں پر مئی 2026 میں ضمنی انتخابات متوقع ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ میں محمد علی موحیدی کرمانی اسمبلی کے چیئرمین جبکہ ہاشم حسینی بوشہری اور علی رضا اعرافی نائب چیئرمین کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انتخابی ضوابط کے مطابق مجلسِ رہبری کا اجلاس اسی صورت میں قانونی تصور کیا جاتا ہے جب اس میں کم از کم دو تہائی یعنی 59 ارکان موجود ہوں۔ نئے قائد کے انتخاب کے لیے بھی حاضر ارکان کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اجلاس میں کم سے کم مطلوبہ تعداد یعنی 59 ارکان شریک ہوں تو صرف 40 ووٹوں کی حمایت سے نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا جا سکتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here