سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدہ طے

0
8

نیویارک(پاکستان نیوز) سعودی عرب نے موجودہ علاقائی بحران میں اسلامی بھائی چارے اور امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی فوجی مہم جوئی کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے جس کے بعد تہران اور ریاض کے درمیان اعتماد کی ایک نئی فضا قائم ہوئی ہے۔ پاکستان نے فرنٹ اینڈ پر رہتے ہوئے اس پوری صورتحال میں ایک انتہائی فعال اور ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کیا ہے جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے سعودی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھ کر غلط فہمیوں کو دور کرنے اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دی۔ دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ نے بھی اس معاہدے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین نے سعودی عرب اور ایران کے مابین پیدا کردہ کشیدگی کو ایک ایسے نقطے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں یہ دشمنی دوستی میں تبدیل ہو گئی ہے اور اس معاہدے کے بعد امریکہ اورخاص طور پر اسرائیل کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ چین نے پاکستان کے تعاون سے دیرینہ دشمنوں کو دوستوں کے صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے سیاسی حلقوں میں ایک صف ماتم بچھ گئی ہے۔ ایران نے سرکاری سطح پر سعودی عرب کے اس جرات مندانہ فیصلے کی تعریف کی ہے جس میں ریاض نے واضح کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری حدود کو کسی بھی صورت میں ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ سعودی عرب میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا عنایتی نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ جنوری میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ایرانی قیادت کو کرائی گئی یقین دہانیوں پر اب مکمل عمل درآمد ہو رہا ہے جو کہ خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اس سفارتی کامیابی نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کی امید پیدا کر دی ہے بلکہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسلامی ممالک باہمی ڈائیلاگ اور پاکستان جیسے دوست ممالک کی معاونت سے پیچیدہ ترین مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here