نیویارک (پاکستان نیوز)امریکہ کی انیس ریاستوں میں مستقل طور پر وقت کی تبدیلی (ڈے لائٹ سیونگز) روکنے کا قانون منظور ہونے کے باوجود عوام کو ایک بار پھر اپنی گھڑیاں آگے کرنی پڑ رہی ہیں کیونکہ وفاقی قانون اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ملک کی انیس ریاستوں نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ موسم کے لحاظ سے وقت کی تبدیلی کے عمل کو ختم کر کے اسے مستقل بنیادوں پر ایک ہی جگہ روک دیں گی تاہم وفاقی دارالحکومت کی اجازت کے بغیر اس پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے۔ موجودہ ملکی قوانین کے تحت ریاستوں کو صرف یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سال بھر پرانے معیاری وقت پر رہیں لیکن وہ وفاقی منظوری کے بغیر مستقل طور پر گرمائی وقت کو نہیں اپنا سکتیں۔ اسی وجہ سے ٹیکساس، فلوریڈا اور واشنگٹن جیسی ریاستوں میں مقامی قوانین کی منظوری کے باوجود شہریوں کو رواں ماہ دوبارہ اپنی گھڑیاں بدلنی پڑ رہی ہیں۔ کئی ریاستوں نے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ وہ اس وقت تک گھڑیاں نہیں روکیں گی جب تک ان کے پڑوس میں واقع دیگر ریاستیں بھی ایسا ہی نہیں کرتیں تاکہ کاروبار اور آمد و رفت میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اگرچہ ایوان میں اس حوالے سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں مگر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے کروڑوں افراد اب بھی پرانے نظام کے تحت وقت بدلنے پر مجبور ہیں۔









