نیویارک (پاکستان نیوز) تیل کی تنصیبات پر بمباری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کیمیائی آلودگی نے ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک سنگین انسانی اور ماحولیاتی بحران پیدا کر دیا ہے۔ حالیہ فضائی حملوں میں تیل کے ذخیروں، ریفائنریوں اور اہم فیلڈز کو پہنچنے والے نقصان سے زہریلا دھواں اور خطرناک کیمیائی مادے فضا میں پھیل رہے ہیں، جس نے شہریوں کی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ تہران میں ایک بڑے تیل ڈپو کو نشانہ بنائے جانے کے بعد آسمان پر چھا جانے والا گھنا سیاہ دھواں دراصل آکسیجن کی کمی کے باعث تیل کے نامکمل احتراق کا نتیجہ ہے۔ سائنسی اعتبار سے جب ایندھن مکمل طور پر نہیں جلتا تو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کے بجائے کاربن مونو آکسائیڈ اور سیاہ ذرات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایندھن میں موجود سلفر کے باعث سلفر ڈائی آکسائیڈ اور ٹرائی آکسائیڈ جیسی مہلک گیسیں بھی خارج ہو رہی ہیں، جو انسانی جسم کے لیے انتہائی زہریلی ثابت ہوتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ کیمیائی مادے نہ صرف جلد، آنکھوں اور پھیپھڑوں میں شدید جلن کا باعث بنتے ہیں بلکہ ان کی موجودگی میں طویل وقت گزارنا کینسر جیسے جان لیوا امراض کے خطرات کو بھی بڑھا دیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس فضائی آلودگی سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زہریلے ذرات زمین کے قریب بیٹھ جاتے ہیں جہاں بچے سانس لیتے ہیں، اور ان کی سانس کی نالیاں بڑوں کے مقابلے میں چھوٹی اور حساس ہوتی ہیں۔ فضائی آلودگی کے علاوہ تباہ شدہ تنصیبات سے تیل اور بھاری دھاتوں کا اخراج بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ یہ زہریلے مواد زمین میں جذب ہو کر مٹی اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو آلودہ کر رہے ہیں۔ اس آلودگی کے اثرات فوری ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں زراعت اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے بھی مستقل خطرہ بن سکتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے برسوں کی محنت درکار ہوگی۔











