بروکلین کی داؤدمسجد پر نفرت انگیز واقعہ، مسلمانوں میں تشویش کی لہر

0
7

(پاکستان نیوز)نیویارک کے علاقے برکلین ہائٹس میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک نامعلوم شخص نے تاریخی داؤد مسجد کی بے حرمتی کی۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریبا ساڑھے چار بجے اسٹیٹ اسٹریٹ پر واقع مسجد کی عمارت کے سامنے پیش آیا۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ نگرانی کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص جس نے سیاہ رنگ کی ٹوپی اور سرخ لباس زیب تن کر رکھا تھا اس نے پہلے قرآن مجید کے صفحات مسجد کی سیڑھیوں پر بکھیرے اور پھر تھوڑی دیر بعد واپس آ کر مسجد کے مرکزی دروازے پر ایک نامعلوم مادہ مل دیا۔ امریکی اسلامی تعلقات کی کونسل نے اس مادے کی شناخت انسانی فضلے کے طور پر کی ہے جس کے بعد اس عمل کو مذہبی منافرت پر مبنی ایک گھناؤنا فعل قرار دیا جا رہا ہے۔ مشتبہ شخص کی شناخت کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی رنگت گندمی ہے اور اس کے چہرے پر ہلکی داڑھی موجود ہے جبکہ واردات کے وقت اس نے اپنے تھوڑی کے نیچے سیاہ ماسک لگا رکھا تھا۔ عینی شاہدین اور کیمروں کی مدد سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ملزم واردات انجام دینے کے بعد مشرقی سمت کی جانب پیدل فرار ہو گیا۔ امریکی اسلامی تعلقات کی کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عفاف ناشر نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عبادت گاہ کو نشانہ بنانے والا ایک کھلم کھلا نفرت انگیز اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس واقعے کو نفرت انگیز جرم کے طور پر درج کرنے کے فیصلے کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ مجرم کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ کسی بھی مذہبی گروہ کو اپنی عبادت گاہوں میں عدم تحفظ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاریخی داؤد مسجد جو اپنے بانی شیخ داؤد الفیصل کے نام سے منسوب ہے 1920 یا 1930 کے عشرے سے اس علاقے میں قائم ہے اور اسے مقامی برادری میں ہمیشہ احترام کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے کی فضا میں رنج و غم پایا جاتا ہے تاہم پولیس تاحال ملزم کی تلاش میں مصروف ہے اور عوام سے اس سلسلے میں تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔ ابھی تک مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن پولیس کی تفتیشی ٹیمیں اس پہلو پر غور کر رہی ہیں کہ آیا اس واقعے کا تعلق کسی خاص انتہا پسند گروہ سے ہے یا یہ کسی فرد کا انفرادی فعل تھا۔ نیویارک جیسے کثیر الثقافتی شہر میں اس نوعیت کے واقعات مذہبی ہم آہنگی کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیے جاتے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here