تل ابیب(پاکستان نیوز) اسرائیلی پارلیمان میں دہشت گردی کے نام پر سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری کے فوری بعد حکومتی ارکان کی جانب سے جس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا وہ نہ صرف پارلیمانی روایات کے منافی ہے بلکہ اس نے انسانی حقوق کے عالمی علمبرداروں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اسمبلی ہال کے اندر قانون کی منظوری کی خوشی میں ارکان نے جس طرح شراب کے جام لنڈھائے اور جشن کا ماحول پیدا کیا اس سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ قانون سازی کا مقصد انصاف کی فراہمی سے زیادہ ایک مخصوص طبقے کے خلاف نفرت کا اظہار اور انتقامی کارروائی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی شدید تناؤ اور انسانی بحران کا شکار ہے قانون سازوں کا یہ غیر سنجیدہ اور اشتعال انگیز طرز عمل عالمی سفارت کاری اور اخلاقیات کے منہ پر تمانچہ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس جشن کو اخلاقی دیوالیہ پن سے تعبیر کیا ہے کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں انسانی جان لینے سے متعلق قانون کی منظوری کو اس طرح کی عیاشی اور جشن کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسمبلی کے اندر شراب کے دور چلانا اور نوحہ گر خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ شدت پسند قیادت عالمی قوانین اور انسانی وقار کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتی۔ یہ رویہ نہ صرف اسرائیلی معاشرے کے اندر موجود تقسیم کو واضح کرتا ہے بلکہ یہ ان خدشات کو بھی تقویت دیتا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی خالصتاً سیاسی مقاصد اور مذہبی انتہا پسندی کے زیر اثر کی گئی ہے۔ عالمی برادری بالخصوص یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کے مبصرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل قرار دیا ہے۔ پارلیمان کے اندر ہونے والا یہ جشن محض ایک جماعت کی فتح نہیں بلکہ اس منصفانہ نظام کی شکست ہے جو کسی بھی امتیاز کے بغیر انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اس موقع پر اختیار کی گئی غیر پیشہ ورانہ روش نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قانون سازی کے ایوان اب انصاف کے بجائے انتقام اور نفرت کی آماجگاہ بن چکے ہیں جہاں انسانی زندگی کے خاتمے جیسے حساس معاملے پر بھی سنجیدگی کے بجائے غل غپاڑہ اور غیر اخلاقی حرکات کو ترجیح دی جاتی ہے۔












