نیویارک (پاکستان نیوز)بین الاقوامی دفاعی تجزیوں اور رپورٹس کے مطابق چین، روس، ایران اور شمالی کوریا باہمی تعاون کو فروغ دیکر ایک نیا عسکری اور سیاسی بلاک تشکیل دے رہے ہیں۔ اس چہار فریقی اتحاد کو دفاعی ماہرین نے جارحانہ قوتوں کا محور قرار دیا ہے جو امریکی اثر و رسوخ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ چاروں ممالک نہ صرف روایتی دفاعی شعبے میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ جدید سائبر صلاحیتوں، ایٹمی ٹیکنالوجی، اور معاشی وسائل کا تبادلہ بھی کر رہے ہیں۔ یوکرائنی تنازع، مشرق وسطی کی صورتحال اور مشرقی ایشیا میں بڑھتے ہوئے کشیدہ ماحول نے اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ روس اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتا ہوا عسکری معاہدہ، ایران کی طرف سے تکنیکی معاونت، اور چین کی معاشی و صنعتی طاقت نے اس اتحاد کو غیر معمولی تحرک فراہم کیا ہے۔ استخباراتی حکام کا ماننا ہے کہ اگرچہ ان ممالک کے سیاسی نظام مختلف ہیں، لیکن ان کا مشترکہ مقصد عالمی نظام میں مغربی اثر کو کمزور کرنا اور علاقائی سطح پر اپنے مقاصد حاصل کرنا ہے۔ دفاعی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اس چہار فریقی اشتراک سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور اس کے عالمی اتحادیوں کو اپنی سیکیورٹی پالیسیوں پر ازسرنو غور کرنا پڑے گا۔ اگر ان چاروں ممالک کا تعاون اسی رفتار سے جاری رہا تو یہ صورتحال متعدد محاذوں پر بیک وقت ایک بڑے بین الاقوامی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔





