نیویارک (پاکستان نیوز)میئرز آفس آف امیگرنٹ افیئرز کی کمشنر فیضہ این علی نے نیویارک میں بغیر کسی سرپرست کے آنے والے تارکین وطن بچوں کے لیے قانونی خدمات کی فراہمی سے متعلق گورنر ہوچول کے فنڈنگ کے اعلان کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔ اپنے ایک تفصیلی بیان میں کمشنر نے واضح کیا کہ یہ بچے اپنے مادری ممالک میں تشدد، انسانی، بدسلوکی اور دیگر شدید خطرات سے بچ کر امریکہ میں تحفظ کی تلاش میں پہنچتے ہیں۔ لہٰذا، قانون کے مطابق انہیں انصاف کی منصفانہ فراہمی اور نیویارک میں اپنی زندگی کو ازسرنو استوار کرنے کے مکمل مواقع ملنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں امیگریشن عدالت کے دورے کے دوران انہوں نے خود دیکھا کہ کس طرح چھوٹے بچوں کو قانونی نمائندگی کے بغیر امریکہ کے انتہائی پیچیدہ قانونی نظام سے اکیلے نمٹنا پڑ رہا ہے۔ ان بچوں سے، جو اکثر انگریزی زبان بھی روانی سے نہیں بول سکتے، یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ محض چند ہفتوں کے اندر وکیل تلاش کریں، پیچیدہ کاغذات مکمل کریں اور عدالت کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کریں۔ یہ عمل ایک بالغ شخص کے لیے بھی نہایت دشوار ہے، چہ جائیکہ ایک ایسے بچے کے لیے جو اکیلا اس ملک میں آیا ہو۔ فیضہ این علی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان بچوں کے لیے وفاقی فنڈنگ ختم کرنے کے فیصلے نے حالات کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ اس وقت قانونی مدد کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ قانونی کارروائیاں نہایت تیز رفتاری سے آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ ایسے سنگین موڑ پر گورنر ہوچول کا یہ اقدام وفاقی حکومت کی پیدا کردہ کمی کو پورا کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم قدم ہے۔ کمشنر نے اس سلسلے میں میئر مم دانی اور اٹارنی جنرل جیمز کے تعاون اور شراکت داری کو بھی سراہا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سٹی انتظامیہ تارکین وطن کے حقوق، سلامتی اور ضروری خدمات تک محفوظ رسائی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل اور برادری کے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی تاکہ ہر نئے آنے والے کو تحفظ کا احساس مل سکے۔










