لندن(پاکستان نیوز)نیویارک کے سابق میئر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی روڈی جولیانی نے ایک حالیہ انٹرویو میں برطانوی بادشاہ شاہ چارلس سوم کے حوالے سے انتہائی متنازع اور حیران کن دعویٰ کیا ہے۔ برطانوی صحافی پیئرز مورگن کو دیئے گئے انٹرویو میں جولیانی نے کہا کہ شاہ چارلس انگلستان کے مسلمان بادشاہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس خیال کو تقویت دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا کہ اگلے 10 سالوں میں یہ ملک ایک مسلم ریاست بن جائے گا۔روڈی جولیانی نے اپنی گفتگو کے دوران دعویٰ کیا کہ انہیں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں نے بتایا ہے کہ وہاں کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انگلستان میں اس وقت کیتھولک چرچ کی اہمیت اینگلیکن چرچ سے زیادہ ہو چکی ہے اور ساتھ ہی مسلمانوں کی تعداد میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں ا? رہا ہے۔ انہوں نے لندن کے اپنے پچھلے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں انہیں بڑی تعداد میں حجاب اور نقاب پوش خواتین نظر ا?ئیں جو ان کے بقول ایک واضح تبدیلی کی علامت ہے۔سابق میئر نے انٹرویو میں مزید کہا کہ برطانیہ میں اب شریعت کے قوانین کے احترام پر بحث کی جا رہی ہے جو کہ ان کے نزدیک درست نہیں ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اسلام برطانیہ پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ شاہ چارلس کے خفیہ طور پر مسلمان ہونے سے متعلق افواہیں اور نظریات سوشل میڈیا پر پہلے بھی زیرِ بحث رہے ہیں تاہم کسی معتبر ذریعے سے کبھی ان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ روڈی جولیانی کے ان بیانات پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور اسے مذہبی منافرت پھیلانے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔












