میں میئر ممدانی کا کزن ہوں!!!

0
23
حیدر علی
حیدر علی

نوٹ: گذشتہ ہفتے شائع ہونیوالے کالم میں کتابت کی غلطیوں کے باعث کالم دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ قارئین سے معذرت خواہ ہیں۔!
” میں میئر ممدانی کا کزن ہوں ۔ ”
” آپ میئر ممدانی کے کزن ہیں تو اِسکا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ ٹریفک کے قانون کی خلاف ورزی کرتے پھریں ۔ اگر میئر ممدانی بھی ٹریفک کے قانون کی خلاف ورزی کرینگے تو ہم اُنہیں بھی سمن دینگے۔ اور پھر میئر ممدانی کس طرح آپ کے کزن ہو گئے ہیں؟”
” میئر ممدانی کی خالہ میری والدہ کی نانی تھیں۔ ”
” اوہ نو یہ تو بہت کمزور رشتہ ہے۔ اور پھر آپ کی والدہ اور میئر ممدانی کی نانی دونوں اِس دنیا سے کوچ کر چکی ہیں۔لوگ اِس طرح رشتہ داری جوڑنا شروع کردیں تو ٹریفک کے قانون کی دھجیاں اُڑ جائینگی۔”
” میں نے کسی ٹریفک کے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے ۔ مجھے رائٹ ٹرن کرنا تھا اِسلئے میں بس لین کو عبور کرتے ہوے گذرا تھا۔ بس لین سے تو میں تنگ آچکا ہوں ۔ بس لین پر کوئی بس نہیں ہوتی ۔ ساری بس لین جیسے ائیر پورٹ کی رن وے ہو، جس کسی کو اِسپیڈ ڈرائیونگ کرنی ہو تو وہ بس لین پر چلا جاتا ہے۔ اور کوئینز میں سڑکیں کم اور بس لینززیادہ ہیں۔ برانکس میں بس لینز پر فُڈ کارٹ ، گنّے کا رس اور خدا بھلا کرے حجامت بنانے کا شاپ کھلا ہوا ہے۔ تو پھر صرف کوئینز کے باسیوں کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں رواں رکھا جاتا ہے؟ کیوں نہیں برانکس اور بروکلین کے لوگوں کو پارکنگ ٹکٹیں دی جاتی ہیں جو وہ متوازی پارکنگ کرکے ساری سڑک کو جام کردیتے ہیں۔ ”
” دیکھئیے محترم آپ نے بہت دیر تک ہمارا دماغ کھایا ہے۔ تاہم رعائتا” ہم آپ کو کوئی سمن نہیں دے رہے ہیں۔ آپ جا سکتے ہیں۔ ”
ٹریفک ٹکٹ دینے کا معاملہ تو اپنی طرف لیکن نیویارک سٹی میں یہ ایک وبا بن گئی ہے کہ جس کسی دیسی کو کوئی ضرورت پڑی تو اُس نے یہی ڈرامہ رچایا کہ ” میں میئر ممدانی کا کزن ہوں۔”
میرے ایک دوست کو پبلک اسکول سے ایک نوٹس ملی کہ وہ جلد از جلد حاضر ہو کر اپنے بیٹے کے خلاف تادیبی کاروائی کا دفاع کریں کہ کیوں نہیں اُسے اسکول سے معطل کردیا جائے۔ اُن کے لڑکے نے اپنی ایک کلاس فیلو لڑکی کو زبردستی بوسہ لیا تھا۔ میرے دوست پرنسپل کے کمرے میں داخل ہونے کیلئے اپنا کارڈ اُن کی خدمت میں پیش کردیا ، جس پر اُنہوں نے یہ بھی لکھ دیا کہ ” مئیر ممدانی کا کزن”۔
پرنسپل دوڑتے ہوے حاضر ہوگئی اور اُنہیں بُلاکر اپنے کمرے میں لے گئی۔ میرے دوست نے گفتگو کی ابتدا کچھ اِس طرح شروع کی کہ” فلاں اسکول کے پرنسپل سے بھی ماضی میں اُن کی گفتگو ہوئی تھی اور وہ اُس سے بہت متاثر ہوے تھے ۔ اُنہوں نے اپنے کزن میئر ممدانی سے اُس کی سفارش کی تھی ۔ ایک ہفتے بعد ہی اُس کے اسکول کے ملین ڈالر کا بجٹ منظور ہوگیا تھا۔ اسکول کے وارے نیارے ہوگئے تھے ۔ اسکول میں روزانہ پارٹی ہونے لگی تھی۔”
” تو کیا آپ کے دوسرے بیٹے نے بھی کسی اپنے کلاس فیلو لڑکی کو بوسہ لیا تھا؟” پرنسپل نے پوچھا۔
” نہیں جی اُس کا مسئلہ یہ تھا کہ میں اُسے پروموشن دلا کر کالج میں داخلہ کرانا چاہتا تھا۔ میئر ممدانی کا نام سن کر ہر کام فٹا فٹ ہوگیا۔اب وہ اسکول ختم کئے بغیر کالج میں چلا گیا ہے۔”
” واہ واہ اِنکریڈیبل ۔ میں نے آپ کو بُلا کر بڑی زحمت دی ہے۔ مسئلہ کچھ ایسا تھا کہ ہم اِ س طرح کی
ڈسیپلینری حرکت پر سختی سے ایکشن لیتے ۔ لیکن کیونکہ آپ میئر ممدانی کے کزن ہیں ، اِسلئے میں آپ کو شبہ کے تمام فوائد سے نوازتا ہوں اور اِس کیس کو فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ لیکن آپ کے بیٹے کو ایسی نازیبا حرکت کرنے سے گریزکرنا چاہیے۔ اگر آئندہ اُس نے ایسی حرکت کی تو اسکول کا دروازہ اُس کیلئے بند ہو جائیگا۔” اُس نے سرگوشی میں کہا کہ وہ اُس کی سفارش پہلے پرنسپل سے بھی زیادہ کرینگے۔”
میرے گھر کے سامنے والی سڑک کا پاٹ ہول میئر ممدانی کے کزن کیلئے ایک لٹمس ٹیسٹ بن گیا تھا۔ کیونکہ یہ سالوں سال سے ڈرائیوروں کی دقت کا باعث تھا۔ ہر ایک کو اپنی گاڑی اُس کے اوپر سے گذار کر لے جانی پڑتی تھی۔ میں نے ایک دِن غصے میں 311 پر کال کرکے یہ بتایا کہ میں میئر ممدانی کا کزن بول رہا ہوں ۔ میرے گھر کے سامنے ایک پاٹ ہول سخت پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ سِٹی کے ملازم نے فورا”جواب دیا کہ پتہ بتائیے ہم روڈ کروہ بھیج دینگے۔ دو دِن بعد ٹرانسپورٹیشن ڈیپارٹمنٹ کا عملہ اپنے لائو لشکر کے ساتھ حاضر ہوگیا اور پاٹ ہول کو الکترا اور کنکری سے بھر دیا۔ ایسے کام کیلئے اپنے آپ کو میئر کا کزن بتانا کوئی ضروری نہیں۔
نیویارک میں میئر ممدانی اور پاکستان میں وزیراعظم کے نام کا جس طرح ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ تازہ ترین مثال میں کراچی ائیر پورٹ پر ایک ایسا شخص وارد ہوگیا جو یہ کہہ رہاتھا کہ وہ وزیراعظم کی پہلی بیوی کا بھائی ہے ، اور ا سلام آباد جانا چاہتا ہے۔ پی آئی اے کے افسر نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے اگر آپ اسلام آباد جانا چاہتے ہیں تو بارہ ہزار روپے کی ایک ٹکٹ خرید لیں۔ وہ شخص بضد ہوگیا کہ وہ ٹکٹ نہیں خریدے گا ، کیونکہ وزیراعظم نے اُسے یہ کہا ہے کہ جورو کے بھائی کیلئے ائیر لائن کا کرایہ مفت ہے۔ وہ یہ کہہ رہا تھا کہ پہلے بھی وہ امریکا تک مفت سفر کرچکا ہے اور وزیراعظم نے خود اُسکے لئے پی آئی اے کے منیجر کو ٹیلیفون کیا تھا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here