محرم کا مہینہ ایک نیا سال!!!

0
5
رعنا کوثر
رعنا کوثر

محرم کا مہینہ
ایک نیا سال!!!

محرم الحرام کا مہینہ ایک نئے اسلامی سال کا آغاز فراہم کرتا ہے۔ عید الاضحیٰ کے اختتام کے فوراً بعد محرم کا مہینہ شروع ہو جاتا ہے اور اسلامی تقویم کے تمام مہینوں کی طرح اس مہینے کی بھی ایک خاص تاریخی اور مذہبی اہمیت ہے۔ مسلمان اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ہر نیا مہینہ انہیں نیکیوں کی طرف راغب ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے وہ متعدد ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر عید الاضحیٰ کے ایام میں روزے رکھ کر گناہوں کی معافی مانگی جا سکتی ہے اور قربانی کے ذریعے خیر و برکت سمیٹی جا سکتی ہے۔ اسی طرح محرم الحرام کے مہینے میں پیغمبر اسلام کے نواسوں نے اپنے جان و مال کی عظیم قربانی پیش کر کے دینِ اسلام کی بنیادوں کو مستحکم رکھا۔ اس مبارک مہینے میں مسلمان کثرت سے نیک اعمال کر کے اپنے لیے صراطِ مستقیم پر چلنے کے راستے تلاش کر سکتے ہیں، جس میں حضورِ اکرم پر درود و سلام بھیجنا بھی شامل ہے کیونکہ ان کی انتھک محنت کے نتیجے میں ہی امت کو اسلام جیسی عظیم نعمت میسر آئی۔ یہ نعمت مسلمانوں کو آسانی سے حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے کافروں کے خلاف ہر محاذ پر مقابلہ کیا گیا اور دن رات تبلیغِ دین کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔
موجودہ دور میں مسلمان ہونے پر فخر تو کیا جاتا ہے لیکن اس وقت کو یاد کرنا بھی ضروری ہے جب رسولِ خدا اور ان کا پاک خاندان اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں تھا۔ حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرت جعفر طیار نے مکمل طور پر اسلام سے محبت اور جذبہ قربانی کا مظاہرہ کیا اور پھر بچوں کی اسی نہج پر تربیت کی جس سے حضرت حسن اور حضرت حسین کے دلوں میں دین کی بے پناہ محبت جاگزیں ہوئی۔ ان تمام ہستیوں نے مل کر اسلام کو ایک نئی جلا بخشی۔ محرم الحرام کا مہینہ نہ صرف ان لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے بلکہ دلوں میں اسلام کی سچی محبت بھی پیدا کرتا ہے۔ اگر ہر سال اس مہینے میں عبادات اور غورو فکر کے دائرے کو وسیع کر دیا جائے تو اس بات کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ اسلام اسی وقت دنیا کے ہر ملک اور ہر انسان کے دل میں جگہ بناتا ہے جب اس کے پیروکار سچے دل سے دین کے لیے کام کرتے ہیں اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ جب دل سے عمل کیا جائے تو بزرگوں کی قربانیاں بھی یاد رہتی ہیں اور جب ان کی محبت اور جذبے کا مشاہدہ کیا جائے تو دین کی قدر و قیمت اور اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ اس لیے جب بھی یہ مبارک مہینے آئیں تو ان کے پسِ منظر میں چھپی اصل وجہ کو سمجھنا چاہیے۔
محرم کا مہینہ بنیادی طور پر یہ یاد دلاتا ہے کہ اسلام کی بقا کے لیے نواسہ رسول نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے میدانِ جنگ میں حق کا ساتھ دیا اور اسلام کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ اسی لیے تمام مسلمانوں کو اس بات کا عزم کرنا چاہیے کہ اگر وہ اسلام کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو خواہ کوئی بڑی قربانی نہ دے سکیں لیکن چھوٹی قربانیوں کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔ ان چھوٹی قربانیوں میں اپنی من مانی کو ترک کرنا، نیند کی قربانی دینا اور اپنے پسندیدہ کاموں کو چھوڑ کر اللہ کی رضا کے لیے وقت پر نماز کے لیے کھڑے ہو جانا شامل ہے۔ اسی طرح دوسرے احکامات پر عمل کرنا، روزہ رکھ کر بھوک اور پیاس کی قربانی دینا، سچائی پر قائم رہ کر جھوٹ سے پرہیز کرنا، اپنے لباس کو بہتر بنانا اور عریانی و فحاشی سے بچنا بھی ایسی قربانیاں ہیں جو مکمل مخلصانہ جذبے کا تقاضا کرتی ہیں۔ ان میں اپنے جذبات اور وقت کی قربانی بھی شامل ہے۔ اگرچہ یہ سب کچھ ان عظیم قربانیوں کے سامنے بہت ہی کم ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کے نواسوں اور آل اولاد نے پیش کیں، مگر پھر بھی ان بابرکت مہینوں کے آتے ہی مسلمانوں کو کوئی نہ کوئی ایسا مثبت عمل ضرور اختیار کرنا چاہیے جس سے دینِ اسلام کو فائدہ پہنچے اور ان کی اپنی ذات کے لیے بھی بھلائی ہو۔ اس طرح دین کی راہ میں ایک قدم آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
بڑے اعمال اور بڑی قربانیاں دینا شاید عام انسان کے لیے مشکل ہو لیکن آسان اعمال سے شروعات کر کے اپنے اندر قربانی کا جذبہ ہمیشہ قائم رکھا جا سکتا ہے۔ والدین، بہن بھائیوں، دوستوں اور دین کی خاطر اپنے اندر ایثار کا جذبہ پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان مہینوں کی برکات سے حقیقی فائدہ اٹھایا جا سکے۔ چونکہ محرم سے نئے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے، اس لیے اس سال کا سب سے اہم پیغام یہی ہونا چاہیے کہ انسان کسی ایک اچھی بات کا انتخاب کرے اور پورا سال اس پر سختی سے عمل پیرا رہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here