محترم قارئین کرام، آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ آج کا موضوع ایک انتہائی حساس اور اہم مسئلہ ہے، یعنی لڑکیوں کا رشتہ، جو ان کے والدین اور خود ان کے لیے ایک عذاب بنا دیا گیا ہے۔ ایک پریکٹسنگ ڈاکٹر صاحبہ نے چند ایسے واقعات پر روشنی ڈالی ہے جن کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ تحریر آپ کی خدمت میں مطالعے کے لیے پیش ہے۔ ہم لوگ کس نہج پر پہنچ چکے ہیں، ہمیں تعلیم سے پہلے اچھی تربیت کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنی بچیوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اور قصہ بھی سامنے آیا ہے جہاں مہمان خواتین کی جس انداز میں مہمان نوازی کی گئی، وہ معاشرے کے لیے ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ برائیاں معاشرے میں عام ہو چکی ہیں لیکن ہمارے اپنے کرتوت بھی اچھے نہیں ہیں اور نہ ہی ہم میں سے کوئی دودھ کا دھلا ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ بتاتی ہیں کہ وہ ایک دن ڈیوٹی پر تھیں جب خودکشی کا ایک ہنگامی کیس ہسپتال لایا گیا۔ خودکشی کی کوشش کرنے والی لڑکی کا نام منتہیٰ تھا اور ڈاکٹر نے اپنے آٹھ سالہ کیریئر میں پہلی بار اتنی خوبصورت لڑکی دیکھی تھی۔ مریضہ حالتِ بیہوشی میں تھی اور اس کو ہسپتال پہنچانے والے اس کے والدین تھے، جو خود بھی بہترین شخصیت کے مالک تھے مگر اس وقت بیٹی کے اس اقدام نے ان کی حالت کو قابلِ رحم بنا دیا تھا۔ لڑکی پر پیار اور اس کے والدین کی بے بسی دیکھ کر ڈاکٹر کو ان پر شدید ترس آیا۔ لڑکی کو فوری طور پر آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا اور کامیاب آپریشن کے بعد جب اسے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تو والدین کو تسلی دی گئی کہ لڑکی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ بیٹی کی خیریت کا پتہ چلتے ہی اس کا والد شکرانے کے طور پر غریبوں میں کچھ بانٹنے کے لیے باہر نکل گیا، جس دوران ڈاکٹر نے لڑکی کی ماں کو اپنے دفتر میں بلا لیا۔
لڑکی کی ماں نے روتے ہوئے جو کہانی سنائی اس کے مطابق منتہیٰ نے ٹیکسٹائل انجینئرنگ کر رکھی ہے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد تمام والدین کی طرح منتہیٰ کے والدین کی بھی خواہش تھی کہ وہ اپنے گھر کی ہو جائے۔ انہوں نے جب منتہیٰ سے اس کی پسند کے متعلق پوچھا تو اس نے مشرقی لڑکیوں کی طرح فیصلے کا پورا اختیار اپنے والدین کو دے دیا۔ والدین نے جب رشتوں کا سلسلہ شروع کیا تو منتہیٰ کو دیکھنے کے لیے ایک خاندان آیا۔ روایتی خاطر تواضع اور خدمات سے مستفید ہونے کے بعد اس خاندان کی عورتیں منتہیٰ کے کمرے میں گئیں، جہاں کسی نے اسے چل کر دکھانے کی فرمائش کی، کسی نے بولنے کو کہا اور کسی نے اس کے ہاتھ کی چائے پینے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے بعد وہ رخصت ہو گئے اور چند دن بعد بغیر کوئی ٹھوس وجہ بتائے رشتے سے انکار کر دیا۔ منتہیٰ کے لیے زندگی میں پہلی بار مسترد ہونے کا تجربہ تھا مگر والدین کی تسلی نے اسے حوصلہ دیا اور کچھ عرصے بعد ایک اور خاندان اسے دیکھنے کے لیے آیا۔
اس دوسرے خاندان نے بھی کھانے سے فارغ ہونے کے بعد منتہیٰ کے ہاتھ سے چائے پینے کی فرمائش کی اور چائے پینے کے بعد رخصت ہو گئے۔ انہوں نے تین دن تک انتظار میں رکھنے کے بعد یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ لڑکی کو مہمان نوازی کا سلیقہ نہیں ہے کیونکہ اس نے لڑکے کی ماں کو میز سے کپ اٹھا کر ہاتھ میں چائے پیش نہیں کی بلکہ عام مہمانوں کی طرح میز پر رکھ دی تھی۔ اس انکار پر منتہیٰ کے ساتھ ساتھ اس کے والدین بھی اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئے مگر اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کر لیا۔ اس کے بعد ایک نیا خاندان آیا تو پچھلے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے منتہیٰ نے ان کے بیٹھتے ہی اپنے ہاتھوں سے ان کے جوتے تک اتارے، وہیں بیٹھے بیٹھے ان کے ہاتھ دھلوائے اور پھر چائے پیش کی۔ اس خاندان نے ایک ہفتے بعد یہ عجیب عذر تراش کر انکار کر دیا کہ آپ کی بیٹی پر جنات کا سایہ ہے، ورنہ کوئی میزبان پہلی بار گھر آئے مہمان کی اتنی خدمت نہیں کرتا۔
پچھلے آٹھ سالوں میں سو سے زائد لوگ رشتہ دیکھنے آئے مگر کوئی نہ کوئی عیب نکال کر چلے گئے۔ حال ہی میں ایک خاندان آیا جس نے لڑکی کو باقی ہر لحاظ سے ٹھیک قرار دیا مگر یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ منتہیٰ کی عمر اب زیادہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے احسان جتاتے ہوئے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر آپ زیادہ مجبور ہیں تو ہمارا ایک 48 سالہ بیٹا ہے جس کی اپنی دکان ہے، اس کے لیے ہم منتہیٰ کو قبول کر سکتے ہیں۔ اتنا کہتے ہوئے منتہیٰ کی ماں سسکیاں لے کر رونے لگی اور ڈاکٹر سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ آپ بھی ایک ماں ہیں، سوچیں کہ ماں جتنی بھی مجبور ہو وہ غیروں کے سامنے ایسی باتیں کیسے برداشت کر سکتی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کی بیٹی سارا دن اس کے سینے سے لگ کر روتی رہی اور کہتی رہی کہ ان لوگوں کے معیار تک آتے آتے اس کی عمر زیادہ ہو گئی ہے، اور پھر اسی ذہنی دباؤ میں اس نے دنیا کو الوداع کہنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ اس کا وجود اس کی چھوٹی بہن کے لیے بھی رکاوٹ بن جائے گا اور وہ بھی والدین کی دہلیز پر بوڑھی ہو جائے گی۔
ڈاکٹر نے منتہیٰ کی والدہ کو پانی پلایا، اسی دوران اس کا والد اور وارڈ بوائے داخل ہوئے اور بتایا کہ منتہیٰ کو ہوش آ گیا ہے۔ منتہیٰ کی ماں تیزی سے وارڈ میں پہنچی اور بیٹی کا سر اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ ڈاکٹر اور منتہیٰ کا والد بھی کمرے میں داخل ہوئے تو منتہیٰ ماں کو چھوڑ کر اپنے باپ کے گلے لگ گئی اور سسکتے ہوئے کہنے لگی کہ بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں اور اس نے اپنے والد سے سوال کیا کہ انہوں نے اسے کیوں بچایا۔ اس نے روتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مر جاتی تو اس کا سایہ اس گھر سے نکل جاتا اور اس کی چھوٹی بہن کی شادی ہو جاتی، ورنہ وہ بھی اس دہلیز پر بیٹھی بوڑھی ہو جائے گی۔ منتہیٰ کا باپ خاموشی سے آنسو بہا رہا تھا، چنانچہ جب ڈاکٹر نے حالات کو قابو سے باہر ہوتے دیکھا تو لڑکی کو پرسکون کرنے کا انجکشن لگا دیا اور اس کے والدین کو دوبارہ اپنے دفتر میں لے آئی۔ ڈاکٹر نے وہاں ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے منتہیٰ اور اس کی چھوٹی بہن کا رشتہ اپنے دونوں بھائیوں کے لیے مانگ لیا، جس پر منتہیٰ کے والدین کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہو گئے۔ ڈاکٹر کے دونوں بھائی خود بھی ڈاکٹر ہیں اور انہوں نے اپنی بہن کے اس فیصلے کو بخوشی قبول کر لیا ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ معاشرے سے التجا کرتی ہیں کہ لوگ شادی ایک عورت سے کر رہے ہوتے ہیں، کسی حور سے نہیں، اس لیے خدارا کسی کی بیٹی کو مسترد کرنے سے پہلے اس کی جگہ اپنی بیٹی کو رکھ کر سوچیں۔ وہ ایک طبیب کی حیثیت سے کہتی ہیں کہ اگر صرف عیب کی بنیاد پر ہی رشتہ طے کرنا ہو تو لڑکیوں سے دگنی تعداد میں لڑکے مسترد ہوں، اور وہ اس بات کو کسی بھی فورم پر ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں کہ مردوں میں عیب عورتوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ خدا اور رسول کا واسطہ دے کر التجا کرتی ہیں کہ کسی کو بلاوجہ عیب زدہ کہہ کر مسترد نہ کریں، کیونکہ اگر آپ اللہ کی مخلوق کے عیبوں پر پردہ ڈالیں گے تو اللہ آپ کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا۔ لوگوں کے نکالے گئے بے جا عیب اور انکار لڑکیوں کو ذہنی طور پر مفلوج کر کے قبر میں دھکیل دیتے ہیں۔
امید ہے کہ اس پاکیزہ رشتے کو، جس کے ذریعے نسلیں چلتی ہیں، احترام دیا جائے گا اور لڑکیوں کو بھیڑ بکری نہیں سمجھا جائے گا۔ جو عزت کسی کے لڑکے کی ہے، وہی عزت اس لڑکی کی بھی ہے۔ اس کے ساتھ ایسا ناروا سلوک جس سے دل دکھے، انتہائی قابلِ مذمت ہے اور یاد رکھیں کہ اس کا حساب اس پورے خاندان کو دینا پڑے گا جو لڑکی دیکھنے کے نام پر خاطر تواضع کرواتا ہے اور بعد میں عیب نکال کر واپس چلا جاتا ہے، جبکہ ان کے پیچھے ایک معصوم دل پر کیا گزرتی ہے اس کا انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ اللہ پاک تمام بچیوں کے گھر آباد رکھے، وہ شاد و آباد اور سخی رہیں، اور اللہ ان کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو سہنے کی ہمت عطا فرمائے۔ معاشرے کے طور پر ہم سب کو ان بیٹیوں سے معافی مانگنی چاہیے جن کے حقوق ہم پورے نہ کر سکے، کیونکہ یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے اور اس میں اللہ کی معافی بھی بندے کی معافی سے مشروط ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو ہدایت فرمائے، آمین۔













